شکر ایک اعلیٰ عبادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۸
لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ أُوْلٰٓئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلٰٓئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (7:179)۔ یعنی، ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ۔ یہی لوگ ہیں غافل۔
اصل یہ ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک، اس کا ابتدائی اور ظاہری پہلو۔ اور دوسرا، اس کا زیادہ گہرا پہلو۔ چیزوں کا ظاہری پہلو آدمی کو کسی کوشش کے بغیر اپنے آپ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس کا جو گہرا پہلو ہے، وہ صرف سوچنے کے بعد کسی کو سمجھ میں آتا ہے۔ اعلیٰ شکر کا تجربہ کرنے کے لیے آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ چیزوں کے گہرے پہلو پر غور کرے، تاکہ وہ ایک معمولی چیز کو غیر معمولی روپ میں دیکھ سکے:
It is the result of taking an ordinary thing as extraordinary. ایک دن مجھے پیاس لگی۔ میرے سامنے میز پر شیشے کا ایک گلاس پانی سے بھرا ہوا رکھا تھا۔ میں نے اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اس کو دیکھ کر میرے دماغ میں ایک فکری طوفان برپا ہو گیا۔ اچانک ایک پوری تاریخ میرے ذہن میں آگئی۔ میری زبان سے نکلا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے پانی جیسی نعمت انسان کو عطا کی۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک سپر (super) شکر تھا، جس نے میری پوری شخصیت میں طوفان برپا کر دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ کئی بلین سال پہلے ایسا ہوا کہ دو گیسوں، آکسیجن اور ہائڈروجن، کے ملنے سے پانی جیسی سیال چیز بنی۔ یہ پانی گہرے سمندروں میں ذخیرہ ہو گیا۔ اس کے بعد خدا نے تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر اس میں دس فی صد نمک ملا دیا۔ یہ پانی براہِ راست طور پر انسان کے لیے ناقابلِ استعمال تھا۔ اس کے بعد خدا نے ایک عالمی نظام کے تحت، پانی کو نمک سے الگ کرنے کے لیے، ازالہ نمک (desalination) کا ایک آفاقی عمل جاری کیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ سمندروں کا کھاری پانی، میٹھا پانی بن کر بارش کی صورت میں ہم کو حاصل ہو گیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تھر لنگ شکر کی توفیق کسی آدمی کو کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ اس کا واحد ذریعہ سوچ ہے۔ یہ دراصل سوچ ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues