Al-Risala · July 2022 · page 23

الفاظ، الفاظ، الفاظ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۳

ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مسلمانوں میں کون بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں (مسلم)۔

ایک شخص جب سنجیدہ طور پر اور شعوری فیصلے کے ساتھ اسلام کو اختیار کرتا ہے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اب وہ ایک با اصول انسان بن جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے ماتحت سمجھنے لگتا ہے، نہ کہ اس سے آزاد۔ یہ تبدیلی اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کا استعمال ذمہ دارانہ طور پر کرے۔ اپنی زبان سے دوسروں کو دکھ پہنچانا یا اپنی طاقت کا بے جا استعمال کرنا اس کو ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے کہ یہ دوسروں کے خلاف اقدام نہیں ہے بلکہ خود اپنے خلاف اقدام ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ایسا ہر فعل اس کو خدا کی پکڑ کا مستحق بنا دے گا۔ ہجرت محض ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیر مطلوب روش کو چھوڑ کر مطلوب روش اختیار کرنے کا نام ہے۔ ہجرت کا انعام اسی شخص کو ملے گا جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے۔

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (مکمل) ایمان والا نہیں جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ میں اس کے لیے اس کے باپ اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو جاؤں (متفق علیہ)۔ ایمان کا یہ فطری نتیجہ ہے کہ آدمی کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایک عظیم نعمت ہے جو کسی آدمی کو گمراہی کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لاتا ہے۔ جو اس کو جہنم کے راستوں سے ہٹا کر جنت کے راستوں پر گامزن کرتا ہے۔ ہدایت کی یہ نعمت کسی آدمی کو براہ راست آسمان سے نہیں ملتی بلکہ پیغمبر خدا کے ذریعہ سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سچا مومن یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کے پیغمبر کا اس کے اوپر عظیم ترین احسان ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کے بعد سب سے زیادہ اس کے رسول سے محبت کرے۔ اس کے سینہ میں پیغمبر خدا کی محبت کا لازوال چشمہ جاری ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page