الفاظ، الفاظ، الفاظ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۴
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں جس آدمی کے اندر ہوں وہ ایمان کی لذت کو پالے گا۔ جس کے لیے اللہ اور رسول تمام دوسری چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔ جو کسی بندے سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے۔ جو کفر کی طرف دوبارہ لوٹنے کو اتنا ہی ناپسند کرے جتنا کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے، جب کہ اللہ نے اس کو اس سے بچا لیا (متفق علیہ)۔
ایمان یہ ہے کہ آدمی کو اس سچائی کی معرفت ہو جائے کہ اس دنیا میں خدا کا انکار سب سے بڑی محرومی ہے، اور خدا کا اقرار سب سے بڑی طاقت۔ ایسا ایمان جب کسی انسان کو دریافت کے درجہ میں حاصل ہوتا ہے تو وہ ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ محبوب خدا اور رسول بن جاتے ہیں ۔ اور اس کے لیے سب سے ناپسندیدہ چیز یہ ہو جاتی ہے کہ وہ دوبارہ سچائی سے محروم ہو کر اس صورت حال سے دوچار ہو جائے جس میں وہ پہلے مبتلا تھا۔ اس احساس کی خارجی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ انسانوں سے اس کی محبت اور خیر خواہی تمام تر اسی ایمانی محبت کے تابع ہو جاتی ہے۔
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھا جو اللہ کو اپنا رب بنانے پر راضی ہو گیا۔ اور اسلام کو اپنا دین بنانے پر اور محمد کو اپنا رسول بنانے پر (مسلم)۔ انسان پیدائشی طور پر سچائی کا متلاشی ہے۔ کسی انسان کی تلاش جب اس کو ایمان تک پہنچاتی ہے تو یہ واقعہ اس کے لیے سب سے بڑی طلب کو پالینے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ خدا کو اور خدا کے رسول کو اور خدا کے دین کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اس طرح اتار لیتا ہے جیسے کہ اس کو کوئی بے حد لذیذ چیز مل گئی ہو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues