Al-Risala · July 2022 · page 25

الفاظ، الفاظ، الفاظ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۵

کے قبضے میں میری جان ہے۔ کوئی بھی یہودی یا نصرانی جو میرے پیغام کو سنے پھر وہ مر جائے اور وہ اس پر ایمان نہ لایا ہو جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ آگ والوں میں سے ہوگا۔ (مسلم) پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی کے لیے نجات کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرے ۔ اب پچھلے مذاہب کی آسمانی کتابیں صرف گزری ہوئی تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ خود انسانوں کے لیے خدا کے دین کا ماخذ ۔ کیوں کہ پچھلے نبیوں کی تعلیمات اب صرف محرف (distorted) صورت میں باقی ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین ہر قسم کی تحریف سے مکمل طور پر پاک ہے۔ دین خداوندی کے غیر محرف ایڈیشن کی موجودگی میں اس کا محرف ایڈیشن اپنے آپ غیر معتبر ہو جاتا ہے۔

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کے لیے دوہرا اجر ہے۔ اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا پھر وہ محمد پر ایمان لایا۔ اور وہ مملوک غلام جو اللہ کا حق ادا کرے اور اسی کے ساتھ اپنے آقاؤں کا بھی۔ اور وہ آدمی جس کے پاس ایک باندی ہو جس سے وہ تمتع کرتا تھا پھر اس نے اس کی تربیت کی اور اچھی تربیت کی۔ اور اس نے اس کی تعلیم دی اور بہتر تعلیم دی۔ پھر اس نے اس کو آزاد کیا اور اس سے نکاح کر لیا (متفق علیہ)۔

آدمی ایک کام کو جائز اور درست سمجھ کر اس میں مشغول ہو۔ تو وہ اس سے پوری طرح مانوس ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی نئی نیکی کو دریافت کرنا اور اس کو عملاً اختیار کرنا بظاہر ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنے مانوس دائرہ سے نکل کر ایک اور نیکی کو دریافت کرے اور اس کو اپنی زندگی میں شامل کرے اس نے گویا حق کے راستے میں دوہری منزلیں طے کیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے آدمی کے لیے دوہرا انعام مقرر کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page