Al-Risala · July 2022 · page 26

اللہ کی مدد

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۶

اللہ کی مدد

فطرت کا ایک قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ یَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (47:7)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا۔

اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ ( مسند احمد، حدیث نمبر (2669)۔ یعنی اللہ کی حمایت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حمایت کرو، تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے ۔ وفى رواية: احْفَظِ اللَّهَ يُكْرِمْ مَا بِكَ (الإبانة لابن بطة، حديث نمبر (1504)۔ یعنی، اللہ کی حمایت کرو، اللہ تم کو عزت عطا کرے گا۔ اللہ کی مدد یا اللہ کی حمایت کا مطلب ہے، اللہ کے مشن کو اپنا مشن بنانا، اور اپنی جان و مال کی طرح بلکہ ان سے بڑھ کر خدائی مشن کی حفاظت و اشاعت کرنا۔ اصل یہ ہے کہ واقعات کو ظہور میں لانے والا خدا ہے۔ مگر وہ واقعات کو اسباب کے پردہ میں ظہور میں لاتا ہے۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ باطل کا زور ختم ہو اور حق کو دنیا میں استحکام حاصل ہو۔ مگر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کچھ ایسے افراد درکار ہیں جو اس خدائی عمل کا انسانی پردہ (human face) بنیں۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کو یہاں خدا کی نصرت کرنا کہا گیا ہے۔ مجھے اپنی زندگی کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے دین کی مدد کے معاملے میں خدا کی مدد کی حقیقت کیا ہے۔ غالباً 1948 کا واقعہ ہے۔ اس کو میں نے اپنی کتاب قرآن کا مطلوب انسان میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے: ضلع اعظم گڑھ کے روواں نامی بستی کے باہر ایک باغ کے پاس کھلے میدان میں جماعت اسلامی کا ضلعی ماہانہ اجتماع ہو رہا تھا۔ ظہر کا وقت تھا۔ اذان ہو چکی تھی، ایک بڑے درخت کے نیچے فرش بچھا ہوا تھا، جہاں کچھ لوگ سنتیں پڑھ رہے تھے، اور کچھ لوگ نماز کے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک حادثہ پیش آیا۔ اجتماع کے قریب ایک بڑا سا گڑھا تھا، جس

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page