Al-Risala · July 2022 · page 27

اللہ کی مدد

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۷

کے عین کنارے سے راستہ گزرتا تھا۔ اس راستہ پر ایک بیل گاڑی جا رہی تھی۔ جیسے وہ گڑھے کے کنارے پہنچی، اس کا ایک پہیہ پھسل گیا، اور پوری گاڑی کروٹ ہو کر گڑھے میں اس طرح گر گئی کہ ایک پہیہ اوپر کھڑا تھا، اور دوسرا نیچے دبا ہوا تھا۔ جیسے ہی ہم میں سے کچھ لوگوں کی نظر اس پر پڑی، وہ اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑے۔ گاڑی سامان سے لدی ہوئی تھی۔ بیل بھی گاڑی میں پھنسے ہوئے تھے۔ بظاہر سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ چند لوگ اس مسئلہ کو حل کیسے کرسکیں گے۔ مگر یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا، بلکہ فی الفور اقدام کرنے کا وقت تھا۔ مدد کے لیے آنے والے فوراً بچاؤ کے کام میں لگ گئے۔ کچھ نے نیچے سے زور لگایا، اور کچھ نے اوپر سے پکڑ کر گاڑی کو اٹھانا شروع کیا۔ میں ان لوگوں کے ساتھ تھا، جو گاڑی کو نیچے سے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ یکا یک ہم نے دیکھا کہ گاڑی اٹھا کر اوپر رکھ دی گئی ہے ۔ چند آدمی جو اس کام میں لگے تھے، ان سب کا متفقہ احساس تھا کہ گاڑی ہم نے نہیں اٹھائی، بلکہ وہ تو کسی اور نے اٹھا کر رکھ دی ہے۔ نیچے ہاتھ دینے والوں کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اوپر سے کوئی اس کو کھینچے چلا جارہا ہے، اور جو لوگ اوپر تھے ان کو ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا گاڑی نیچے سے اٹھتی چلی آرہی ہے۔

یہ واقعہ واضح (illustrate) کرتا ہے کہ خدا کی مدد کا مطلب کیا ہے۔ یہ میری زندگی کا ایک حقیقی تجربہ تھا۔ اس سے میں نے دریافت کیا کہ خدا کی نصرت کیسے آتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا میں خدا کی جو مدد آتی ہے، وہ ہمیشہ اسباب کے پردے میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق پوری تدبیر کرنی پڑتی ہے۔ یعنی کام کو انجام دینے والے بظاہر ہیومن فیس (human face) ہوتے ہیں، لیکن باعتبار حقیقت وہ منصوبہ أصلاً فرشتوں کے ذریعے انجام پاتا ہے ۔ کیوں کہ یہ فرشتے ہیں، جو اللہ کے حکم سے ساری دنیا کا نظام چلا رہے ہیں۔ اب اگر کچھ انسان زمانی مواقع کے اعتبار سے خدا کے منصوبہ کو دریافت کریں، اور اس کے لیے جد و جہد کریں تو عین اسی وقت یہ ہوگا کہ خدا کے فرشتے خصوصی طور پر وہاں آکر اس انسان کی مدد کریں گے۔ یہی مطلب ہے انسان کی جانب سے خدا کی نصرت کا، اور خدا کی جانب سے انسان کی مدد کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page