اللہ کی مدد
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۸
موجودہ زمانے میں دو مختلف آئیڈیالوجی ابھری۔ سیکولر آئیڈیالوجی اور مذہبی آئیڈیالوجی۔ سیکولر آئیڈیالوجی سے مراد وہ آئیڈیالوجی ہے جو خالصتاً انسانی عقل (reason) کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں مذہبی آئیڈیالوجی ہے، یعنی انسانی اضافوں سے پاک خدائی دین، جو پیغمبر کی رہنمائی کے تحت بنی۔ موجودہ زمانے کا یہ ایک عجیب ظاہر ہ ہے کہ سیکولر آئیڈیالوجی اب اپنی مایوسی کے آخری دور میں پہنچ رہی ہے۔ اس کے برعکس، تمام قرائن (clues) بتا رہے ہیں کہ مذہبی آئیڈیالوجی نئی صبح کی مانند انسان کے اوپر طلوع ہونے والی ہے، بلکہ وہ طلوع ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
جدید مادی ترقیوں کے بعد سیکولر مفکرین نے یہ یقین کر لیا کہ بہت جلد ہمارے سیّارۂ زمین (planet earth) پر وہ بہتر دنیا بننے والی ہے، جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ اس آئیڈیالوجی کی ایک نمائندہ کتاب فیوچر شاک (Future Shock) ہے، جس کو اُس کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) نے پہلی بار 1970 میں شائع کیا۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ اس کتاب میں مصنف نے یقین کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا تیزی کے ساتھ انڈسٹریل ایج سے ترقی کر کے سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ سوویلائزیشن کا اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کی تمام مادی خواہشیں اپنا مکمل فل فل مینٹ (fulfillment) پالیں گی۔ مگر اکیسویں صدی کا آغاز اس قسم کے تمام اندازوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گیا۔ اب شدت کے ساتھ وہ ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ انڈسٹریل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی (pollution) نے سیارۂ زمین پر ایسے حالات پیدا کیے، جب کہ یہ دنیا انسان کے لیے قابل رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔ میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری ریسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اس خطر ناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ ناقابل تبدیلی (irreversible) ہو چکی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues