Doomsday not Far
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۰
کوششوں کے باوجود انھیں کامیابی نہ ہوسکی۔ برعکس طور پر یہ ہوا کہ ساری دنیا میں انارکی اور کرپشن اور استحصال (exploitation) اور بددیانتی پھیل گئی۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اس معاملے میں مزید اضافہ ہوا۔ حتی کہ تمام قرائن کے مطابق، اب یہ ناممکن ہوچکا ہے کہ منصفانہ سوسائٹی کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کیا جاسکے۔ جدید تر قیوں نے لوگوں کے بگاڑ میں صرف اضافہ کیا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ انسان کا ضمیر ایک منصفانہ سماج چاہتا ہے۔ یہ ضمیر کبھی ختم نہ ہوسکا۔ یہ ضمیر جس طرح پہلے لوگوں کے اندر موجود تھا، اُسی طرح وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ اب موجودہ حالات میں منصفانہ سماج کا قیام عملاً ناممکن ہوچکا ہے۔ مثلاً موجودہ عدالتی نظام اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اُس سے اب انصاف کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ قوانین کی بھر مار کے باوجود صرف بے انصافیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
یہ معاملہ دوبارہ ایک قرینہ (clue) ہے جو پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتا ہے، یعنی یہ کہ مجرموں کو سزا دینا اور سچے انسانوں کو اُن کے کیے کا انعام دینا، موجودہ محدود دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ انسانی ضمیر کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں خود خدا ظاہر ہو کر سب کا حساب لے اور انصاف کو قائم کرے۔ یہ صورتِ حال اس پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک یومِ الحساب (Day of Judgement) آنے والا ہے۔ اُس وقت خدائی طاقت کے ذریعے منصفانہ سماج کا وہ قیام ممکن ہوجائے گا، جو انسانی طاقت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ممکن نہیں ہوا تھا۔ پیغمبرانہ آئیڈیالوجی کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں — قبل از موت دورِ حیات، اور بعد از موت دورِ حیات۔ اب یہ آخری طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اُس کامل دنیا کی تعمیر کے لیے ناکافی ہے جو انسان کا ضمیر چاہتا ہے۔ یہ مطلوب دنیا بلاشبہ بنے گی، لیکن وہ موت کے بعد کے وسیع تر دورِ حیات ہی میں بن سکتی ہے۔ یہ مطلوب دنیا ایک زیرِ تعمیر دنیا (world in the making) ہے۔ اب وہ دن زیادہ دور نہیں، جب کہ یہ بننے والی مطلوب دنیا مکمل ہو کر ہمارے سامنے آجائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues