ذہن سازی، بزور نفاذ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۱
ذہن سازی، بزور نفاذ
عائشہ بنت ابی بکر (وفات 58ھ) کو اسلام کی تاریخ میں خاتون اوّل (First Lady) کا مقام حاصل ہے۔ وہ خلیفہ اوّل ابوبکر صدیق کی صاحبزادی تھیں پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ بنیں۔ وہ قرآن کی ایک بڑی عالمہ تھیں۔ علم حدیث میں ان کو مجتہدانہ مقام حاصل تھا۔ عائشہ صدیقہ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طویل عرصہ تک انتہائی قریبی صحبت کا موقع حاصل ہوا۔ چنانچہ انھوں نے بہت سی گہری حکیمانہ باتیں دریافت کیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ قرآن میں سب سے پہلے وہ سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے (حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الْإِسْلَامِ) تو حرام اور حلال کے احکام اترے۔ اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ شراب نہ پیو تو ضرور وہ کہتے کہ ہم شراب نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ اترتا کہ تم لوگ زنا نہ کرو تو ضرور وہ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے (لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا وَلَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993۔
مذکورہ روایت میں بے حد اہم بات بتائی گئی ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کے لیے اسلام کا طریقہ کیا ہے۔ یعنی وہ طریقہ جس کے ذریعہ کسی معاشرہ میں مثبت اور حقیقی نتائج برآمد کیے جاسکتے ہیں اور انسانی معاشرہ میں حقیقی انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ وہ طریقہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ پہلے فکری مہم کے ذریعہ افراد کے ذہن کو بدلنا اور پھر قبولیت کے بعد اجتماعی سطح پر احکام شریعت کو نافذ کرنا۔ عجیب بات ہے کہ یہ حقیقت عائشہ صدیقہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سالہ صحبت میں جان لی تھی اور امت کو اس سے باخبر کر دیا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اور مفکرین سارے قرآن و حدیث کو پڑھنے کے باوجود اس اہم حقیقت سے بے خبر رہے اور اب تک بے خبر ہیں۔ وہ ایک کے بعد ایک مسلم ملکوں میں اقتدار پر قبضہ کر کے اچانک اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ہر بار یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ لوگ، عائشہ صدیقہ کے الفاظ میں، یہ کہہ کر شرعی احکام
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues