ذہن سازی، بزور نفاذ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۲
قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں ــــ ہم (اپنی پرانی روش) کبھی نہ چھوڑیں گے۔ اس ناکامی کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ ذہن سازی کا کام کیے بغیر شرعی احکام کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ معاشرہ کی اصلاح کا نقطہ آغاز (starting point) کیا ہے۔ اس کو پیغمبر اسلام کے واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ہجرت سے پہلے جب آپ مکہ میں تھے تو وہاں کے سرداروں نے آپ کو حکومت کی پیش کش کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر تم اس کے ذریعہ سے عزت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بنا لیں گے اور اگر حکومت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا حاکم بنانے کے لیے تیار ہیں (وَاِنْ کُنْتَ تُرِیدُ مُلْکاً مَلَّکْنَاکَ عَلَیْنَا) ــــ آپ نے فرمایا: میں تمھارے اوپر حکومت نہیں چاہتا۔ لیکن اللہ نے مجھے تمھاری طرف بطور رسول بھیجا ہے (وَلٰکِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ رَسُولاً) سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 63-262۔ دوسرے الفاظ میں، تم لوگ میری بات سنو، اور خدا پر ایمان لاؤ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب سے اسلامی تحریک کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز حکومت یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اسلامی تحریک کا اصل نقطۂ آغاز فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا ہے، ایک ایک فرد کے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering of the mind) کرنا ہے۔ اسلامی تحریک کا فارمولا دو نکات (points) پر مشتمل ہے ــــ فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا، اور پولٹیکل سسٹم کے معاملے میں حالتِ موجودہ کو تسلیم کر لینا: Change in personality, status quoism in political system اسلامی تحریک کی یہی فطری ترتیب ہے۔ اگر اس ترتیب کو بدل دیا جائے، یعنی اگر پولٹیکل سسٹم کو بدلنے سے تحریک کا آغاز کیا جائے تو سو سال کی جدوجہد کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں ۔ فرد کی تبدیلی سے آغاز کر کے نظام کی تبدیلی تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اگر نظام کی تبدیلی سے آغاز کیا جائے تو ایسی تحریک کسی انجام تک پہنچنے والی نہیں۔ ایسی تحریک صرف تباہی میں اضافہ کرے گی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے بگاڑ کا تعلق سوچ سے ہے۔ اصلاح کا راز یہ ہے کہ انسانی سوچ میں تبدیلی لائی جائے ۔ انسانی سوچ کو بدلے بغیر کوئی بھی اصلاح ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues