Captain Mustafa is in command
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۸
اس سفر میں میرا ایک اور تاثر یہ ہے: یہ ممکن ہے کہ آپ کسی چیز پر بلا استحقاق قبضہ کر لیں مگر یہ ناممکن ہے کہ آپ کسی چیز پر اپنے بلا استحقاق قبضہ کو باقی رکھ سکیں۔
ایک مقام کے مسلمان نے بتایا کہ ان کے یہاں عید گاہ کی بنیاد ڈالی جا رہی تھی اور اس موقع پر بستی میں شیرینی تقسیم ہونے والی تھی۔ مذکورہ مسلمان نور محمد نے اپنے ایک ہندو پڑوسی سے کہا کہ تم بھی چلو اور اپنے حصے کی شیرینی حاصل کرو۔ ہندو نے عذر کیا۔ بار بار پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم لوگ مسجد اور عید گاہ کی نیو میں گائے کی سینگ ڈالتے ہو اور اس کا بال اس کے اندر دفن کرتے ہو۔ ایسی حالت میں ایک ہندو کیسے وہاں جا سکتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ عید گاہ کا مطلب ہم کو بتایا گیا ہے'' عید گائے‘‘۔ یعنی جس کی بنیاد میں گائے دفن کی جائے وہ عید گاہ ہے۔ ایک اور مسلمان نے بتایا کہ مسجد میں اذان ہورہی تھی۔ موذن نے کہا کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘۔ یہ سن کر ایک ہندو بولا: میاں جی، اکبر بادشاہ تو کب کا مر گیا، ابھی تک تم لوگ اسی کو پکارے جا رہے ہو۔ یہ باتیں بظاہر بہت لغو معلوم ہوتی ہیں۔ مگر اس کی ذمہ داری کم از کم 50 فیصد خود مسلمانوں پر بھی ہے۔ مسلمانوں نے اسلام کا حقیقی تعارف اس ملک کی بڑی آبادی کے سامنے پیش نہیں کیا، مگر اپنی جھوٹی سیاست سے ہزاروں انسان کے دلوں میں نفرت پیدا کی۔ اسی کی وجہ سے ان کے درمیان ایسے قصے مشہور ہوئے۔ جب دو قوموں میں نفرت ہو تو اسی طرح جھوٹی باتیں ایک دوسرے کے خلاف پنپنے لگتی ہیں۔
1947 سے پہلے کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے۔ ایک کانگریسی مسلمان نے ایک مضمون شائع کیا۔ یہ مضمون اصلاً ادب کے موضوع پر تھا۔ مگر اس میں ضمناً انگریزی تہذیب کا بھی مذاق اُڑایا گیا تھا۔ مضمون نگار نے لکھا تھا کہ انگریزی زبان ایسی بری زبان ہے کہ اس میں جا کر سیدھے الفاظ بھی بگڑ جاتے ہیں۔ مثلاً الہ آباد انگریزوں کی زبان میں آل بیڈ (Allahbad) بن جاتا ہے اور لالہ ان کی زبان میں پاپی(Poppy) (Poppy) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
دوسروں کے بوائق (شر) سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ اپنے بوائق سے دوسروں کو محفوظ رکھا جائے۔ اس معاملہ میں شکایت اور احتجاج سے کوئی فائدہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues