Al-Risala · July 2022 · page 39

24 جنوری 1986

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۹

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی واحد سب سے بڑی وجہ ان کا جھوٹا فخر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان دوسروں سے پیچھے ہو گئے ۔ وہ دورِ جدید میں ترقی کی بنیاد کھو بیٹھے۔ مگر شاعروں اور خطیبوں نے انہیںں جھوٹے فخر کی غذا دے کر مدہوشی میں مبتلا کر دیا۔ ظفر علی خان نے مولانا حالی کے خلاف بہت سی نظمیں لکھی تھیں۔ ایک بار انہوں نے لکھا :

ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدانِ پانی پت کی طرح پائمال ہے حالی چونکہ پانی پت کے رہنے والے تھے اسی لیے ردیف و قافیہ ملا کر ان کے خلاف ایک شعر تیار ہو گیا۔ انہی ظفر علی خاں کا ایک شعر ہے :

چلے ہم لکھنؤ سے بارہ بنکی مسلمان سیر ہیں ہندو چھٹنکی حقیقت کے اعتبار سے معاملہ اس شعر کے بالکل برعکس ہے۔ مگر بارہ بنکی اور چھٹنکی ( چھٹانک بھر، معمولی، حقیر) کا قافیہ شاعر کے لیے کافی ہو گیا کہ وہ حقیقتِ واقعہ کے خلاف ایک بات ثابت کر کے لوگوں سے خراجِ تحسین حاصل کر سکے۔

24 جنوری 1986

برادرم جناب محسن عثمانی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک صاحب کا تاثر بیان کیا۔ یہ تاثر انہی کے الفاظ میں یہ تھا ــ دوسرے علما کی تحریروں سے اسلاف پر اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وحید الدین خاں کی تحریروں سے اسلاف پر بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے“۔ میں نے کہا کہ یوں نہ کہیے ۔ بلکہ اس طرح کہیے ــ دوسرے علما کی تحریریں اسلاف تک پہنچا کر چھوڑ دیتی ہیں اور وحید الدین کی تحریریں آدمی کو آگے خدا تک لے جاتی ہیں“۔ دورِ زوال میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ قومیں خدا سے کٹ کر اپنے افراد پر اٹک جاتی ہیں۔ وہ اپنے بزرگوں میں جینے لگتی ہیں ۔ بزرگوں کا تذکرہ، بزرگوں کی عظمت سے فخر کا جذبہ لینا، بزرگوں کی کہی ہوئی باتوں سے وابستہ ہو جانا، یہی بعد کے لوگوں کا دین ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب ان کے سامنے براہِ راست خدا کی بڑائی بیان کی جاتی ہے اور ان کو براہِ راست قرآن و سنت کی طرف بلایا جاتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page