25 جنوری 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۰
ہے تو ایسے لوگ اس قسم کی باتوں سے اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔ ایسا دین ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ میں اپنی تحریروں میں اپنی ذات کی طرف نہیں بلاتا بلکہ خدا کی طرف بلاتا ہوں۔ پھر لوگوں کو کیوں یہ احساس ہوتا ہے کہ اس میں کوئی غلطی ہے۔ کیا خدا کی طرف بلانا بھی ایسی چیز ہے جس میں کوئی غلطی ہو؟
25 جنوری 1986
آج پرنسپل نفیس احمد صدیقی (نظام الدین ایسٹ) تشریف لائے۔ ان کے پاس السٹریٹڈ ویکلی (دسمبر 1985) کی کاپیاں تھیں جن میں مسٹر ارون شوری (پیدائش 1941) نے مسلم پرسنل لا پر تین قسطوں میں مضمون شائع کیا ہے اور شاہ بانو کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو درست ثابت کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ شاہ بانو کو طلاق کے بعد ان کا شوہر پانچ سو روپے ماہانہ مستقل گزارہ دے۔
میں نے کہا کہ اس معاملے میں رائے قائم کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک نقلی، دوسرا عقلی۔ نقلی اعتبار سے طلاق کے بعد گزارہ دینے کا اصول قطعا ً ثابت نہیں ہوتا۔ قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ طلاق سے پہلے عورت کے لیے نفقہ ہے اور طلاق کے بعد عورت کے لیے متاع۔
شریعت میں نفقہ کا لفظ مینٹیننس (Maintenance) کے لیے ہے اور متاع کا لفظ پراوزن (Provision) کے لیے۔ مگر ایک مولوی آدمی مینٹیننس کو وقتی رقم اور پراوزن کو مستقل گزارہ کے معنی میں بولے تو انگریزی داں طبقہ اس کا مذاق اڑائے گا۔ مگر عربی الفاظ (نفقہ اور متاع) کے سلسلے میں انگریزی داں حضرات یہی غلطی کر رہے ہیں۔ وہ قرآن سے متاع کا لفظ لیتے ہیں اور اس کو اس مفہوم میں استعمال کرتے ہیں جس کے لیے شریعت میں نفقہ کا لفظ آیا ہے۔
دوسری بات میں نے یہ کہی کہ عقلی معیار پر ان حضرات کا نقطۂ نظر درست ثابت نہیں ہوتا۔ جدید مغربی دنیا نے اس اصول کو اختیار کیا کہ مرد پر لازم ہے کہ وہ طلاق کے بعد بھی اپنی سابقہ بیوی کو گزارہ دے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی سوسائٹی میں پچاس فیصد سے زیادہ لوگ بے نکاح
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues