Al-Risala · July 2022 · page 41

26 جنوری 1986

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۱

عورتوں کے ساتھ رہنے لگے تاکہ علیحدگی کی صورت میں وہ عورت کو گزارہ دینے کے قانون سے بچ جائیں۔ یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ طلاق کے بعد گزارہ کو لازم قرار دینا مسئلہ کو ختم نہیں کرتا بلکہ وہ مسئلہ کو اور بڑھا دیتا ہے۔

26 جنوری 1986

عبداللہ مصطفیٰ صاحب ایک امریکی نومسلم ہیں۔ ان کا سابق نام اسٹیواسکلر تھا اور ان کا سال پیدائش 1947 ہے۔ انہوں نے 1969 میں اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ گیارہ سال تک مختلف مسلم ملکوں کا سفر کرتے رہے۔ اسی درمیان انہوں نے عربی اتنی سیکھ لی کہ وہ عربی زبان میں بخوبی گفتگو کر سکتے ہیں۔ وہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے بے حد شاکی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ مسلم ملکوں کا سفر کرنے کے بعد آپ کا آخری تاثر کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ (مسلمانوں کو دیکھ کر) میں بہت زیادہ دل شکستہ ہو گیا تھا، یہاں تک کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ میں اسلام سے نکل جاؤں گا: كنت محزوناً جداً حتى ظننت ان اخرج من الاسلام ان کا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مرض پیرانوئیا (paranoia) ہے۔ یعنی جھوٹی بڑائی کا جنون۔ مسلمان فرضی طور پر اپنے کو بڑا سمجھتے ہیں اور جب دنیا ان کی فرضی بڑائی کو تسلیم نہیں کرتی تو وہ ساری دنیا کے خلاف جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر ایک کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔

وہ اردو نہیں جانتے، اس لیے ہمارے لٹریچر سے براہ راست واقفیت حاصل نہیں کر سکتے۔ تاہم کئی ملاقاتوں میں، میں نے اپنے لٹریچر کا خلاصہ ان کے سامنے رکھا۔ وہ بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے جو افکار ہیں انہی افکار پر مبنی لٹریچر آج مغربی قوموں میں اسلام کے تعارف کے لیے درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب شہید وغیرہ کی کتابوں کے ترجمے انگریزی زبان میں کیے گئے ہیں، مگر وہ مغرب میں اس کی تبلیغ کے لیے کارآمد نہیں۔ کیونکہ ان میں اسلام کو قومی فخر کے انداز میں پیش کیا گیا ہے، نہ کہ اس اصولی اور فطری انداز میں جیسے کہ آپ پیش کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page