داعیانہ کردار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۲
داعیانہ کردار
سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی کی چیرپرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے سی پی ایس لیڈیز ٹیم کے ایک آن لائن پروگرام میں مندرجہ ذیل تقریر کی تھی:
مولاناوحیدالدین خاں صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "دعوت الی اللہ کا مشن اختیار کرنے کے لیے داعیانہ کردار ضروری ہے۔ جو شخص دعوتی عمل کا کریڈٹ لینا چاہتا ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کرے"۔ ہم داعیانہ کردار کو رسول اللہ ﷺ اور اصحابِ رسول کے نمونہ سے بہت اچھے طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ رسول اللہ کے زمانے میں بار بار ایسا ہوتا تھا کہ مدعوغصہ ہوجاتے تھے۔ لیکن آپ اور آپ کے اصحاب اعراض کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔
مثال کے طور پر مصعب بن عمیر خدا کا پیغام پہنچانے مدینہ گئے تھے۔ وہاں قبیلہ اوس کے ایک بڑے سردار اسید بن حضیر کو جب ان کی دعوتی سرگرمیوں کی خبر ہوئی تو بہت غصہ ہوئے کہ تم ہماری عورتوں اور ہمارے بچوں کو بہکانے آئے ہو (فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا مُتَشَتِّمًا، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمَا إِلَيْنَا تُسَفِّهَانِ ضُعَفَاءَنَا)۔ مصعب بن عمیر نے بہت ٹھنڈے طریقے سے جواب دیا کہ پہلے آپ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری بات سنیں، پھر اس کے بعد آپ جو فیصلہ کریں وہ مجھے منظور ہوگا۔ اسید بن حضیر نے کہا کہ تم نے بہت انصاف کی بات کہی اور سننے کے لیے بیٹھ گئے۔ اس کے بعد مصعب بن عمیر نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے اس کے بعد کہا: یہ کلام کتنا عمدہ اور کتنا اچھا ہے (مَا أَحْسَنَ هَذَا الْكَلَامَ وَأَجْمَلَهُ)، اور وہ مصعب بن عمیر کے ساتھی بن گئے (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 436)۔ اس طرح بہت جلد مدینہ کے تمام باشندے آپ کے فولڈ میں آگئے۔ یہی سارے صحابہ کا طریقہ تھا، وہ غصے کا جواب غصے سے نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ وہ اس بات کے بہت زیادہ حریص تھے کہ خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ اگر وہ غصہ کا طریقہ اختیار کرتے تو حالات دعوتی عمل کے لیے نارمل نہ ہوپاتے اس وجہ سے وہ ہر موقع پر اوائڈنس کا طریقہ اختیار کرتے تھے، اور آخری حد تک صبر و برداشت کے اصول پر قائم رہتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues