داعیانہ کردار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۳
رسول اللہ کے زمانے میں اس قسم کی اور بھی مثالیں ملتی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف علاقوں میں تبلیغی و فود بھیجے تھے۔ مثلاً آپ نے اپنے دو صحابہ حضرت ابوموسی اور حضرت معاذ بن جبل کو اسلام کی تبلیغ کے لیے یمن بھیجا۔ ان دونوں کو بھیجتے ہوئے آپ نے یہ نصیحت کی: تم لوگ آسانی پیدا کرنا، مشکل پیدا نہ کرنا، تم لوگ خوش خبری دینا، لوگوں کو متنفر نہ کرنا (یَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا) صحيح البخاری، حدیث نمبر 3038۔ انھوں نے انتہائی نرمی سے لوگوں سے بات چیت کی۔ تمام لوگ متاثر ہو گئے، اور پیغمبر اسلام کے سچے ساتھی بن گئے۔ لیکن موجودہ دور میں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ میری ایک دوست بتا رہی تھیں کہ انھوں نے اپنے بچے کے لیے ایک مولوی صاحب کو لگایا کہ وہ ان کو دین اسلام کی باتیں بتائیں۔ لیکن وہ آتے ہی بچوں کو جہنم سے ڈرانے لگے، ان کوڈ وزاینڈ ڈونٹرز (do's and don'ts) کی زبان میں دین کی باتیں بتانے لگے۔ یہ بچے انگلش اسکول کے پڑھنے والے تھے، ان کو اس قسم کی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں، انھوں نے مولوی صاحب سے پڑھنے سے انکار کر دیا۔ اگر مولوی صاحب ان کو پیراڈائز کی باتیں بتاتے، دین کی باتوں کو ریزن آؤٹ کر کے بتاتے تو ان کے اندر دلچسپی پیدا ہوتی، اور وہ مولوی صاحب کی باتوں کو سمجھتے۔ تو یہی وہ حکمت ہے، جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ آسانی پیدا کرو، مشکل پیدا نہ کرو، لوگوں کو خوشخبری دو، ان کو متنفر نہ کرو۔ اسلام دین فطرت ہے، وہ ہر آدمی کی فطرت کی آواز ہے۔ اسلام کو قابلِ قبول بنانے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ لوگوں سے معتدل تعلقات قائم کیے جائیں۔ اور اسلام کے مثبت پیغام سے انھیں باخبر کر دیا جائے۔ قرآن کی سورہ الاحزاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے دعوت کے آداب بتائے گئے ہیں۔ اس کا ایک جزء یہ ہے: ”ان کے ستانے کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ بھروسہ کے لیے کافی ہے (وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيْلًا) 33:48۔“ اس آیت کے مطابق، جب کوئی آدمی دعوتی کام کرے گا تو ضرور ایسا ہوگا کہ مدعو کی طرف
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues