داعیانہ کردار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۴
سے زیادتیاں پیش آئیں گی۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ ان زیادتیوں کو نظر انداز کرے۔ مدعو اگر ہماری دعوت کوسن کر رد عمل کا اظہار کرتا ہے تو اسے اعراض کرتے ہوئے ہمیں اپنی دعوتی مہم کو جاری رکھنا ہے۔
قرآن کی سورہ طٰہٰ آیت 44 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ کو فرعون کی طرف اپنے پیغام کے ساتھ بھیجا تو ان کو بطور خاص یہ حکم دیا تھا: ’’پس اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ ‘‘ اب آپ سوچیے کہ ایسا جابر اور ڈکٹیٹر حکمراں، جس نے سب سے بڑا رب ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس نے کہا تھا: أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى (79:24)۔ یعنی، میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔ اس کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ اس سے نرمی سے بات کرنا، جب کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں سب کچھ تھا کہ وہ سرکش ہے اور خدا کے پیغام کو ماننے والا نہیں، پھر بھی اللہ نے اس کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا۔
لہٰذا داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کو بہت زیادہ یاد کرے اور وہ یہ سمجھ کر دعوت کا کام کرے کہ وہ خدا کا کام کر رہا ہے۔ تو خدا کے کام میں اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے، کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ری ایکٹ نہیں کرے گا، وہ ہر حال میں خوشی خوشی کام کرے گا کہ اس نے اپنے رب کے لیے کام کیا ہے۔ اگر آسانی سے کام ہو جاتا تو اس کا اتنا ثواب نہیں ہوتا۔ لیکن جب اس کے لیے کچھ مصیبت اٹھانا پڑے، کچھ تکلیف اٹھانا پڑے تو اس کا ثواب بہت زیادہ ہوگا۔
نرمی اس لیے ہے کہ مدعو بھی انسان ہی ہے، اس کا غصہ جو دکھائی دیتا ہے وہ اس کا اوپری اوپری رویہ ہوتا ہے، اس کی اندرونی فطرت میں وہ صلاحیت موجود رہتی ہے کہ کوئی حق بات اگر معقول انداز میں کہی جائے تو اس کی فطرت اس کو مجبور کرے گی کہ وہ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرے۔ اس کے برعکس، اگر ہم بھی غصہ ہونے لگیں، ہم بھی اپنے ایگو سے مغلوب ہو کر کوئی رد عمل ظاہر کریں تو مدعو کا کانشنس نہیں جاگے گا، تا کہ وہ ایک ریشنل اور لاجیکل بات کو مان لے جو اس کی فطرت کی آواز ہے۔ اس کو ایک ضد ہو جائے گی، اور وہ بات کو نارمل طریقے سے نہیں لے پائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues