Al-Risala · July 2022 · page 45

داعیانہ کردار

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۵

ایک بار میں نئی دہلی کے ایک پارک میں گئی ، جس کا نام لودھی گارڈن ہے۔ وہاں میں نے قرآن اور لٹریچر ایک سردار جی اور ان کی فیملی کو دینا چاہا۔ سردار جی نے سختی سے کہا کہ ہم کیوں لیں آپ کی کتاب، کیا آپ ہماری کتاب پڑھتی ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم ہر چیز پڑھتے ہیں آپ دیجیے۔ پھر انھوں نے کہ ’ست سری اکال' کہیں گے۔ ہم نے کہا کہ ہاں ہم کہیں گے، ہم نے دہرادیا۔ اسی طرح سے انھوں نے اپنے مذہب کی کئی باتیں پوچھیں، اب وہ مجھے یاد نہیں، میں نے نرم انداز میں سب کا جواب دیا۔ وہ لوگ بہت خوش ہو گئے۔ سب نے ہماری کتابیں بہت خوشی خوشی لیں۔ قرآن کی سورہ النساء میں پیغمبر اسلام سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جو تمھارے مخالفین ہیں تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو، اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے (4:63)۔ "مخالفین سے اعراض کرو" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بحیثیت انسان ان کو کمتر سمجھ کر نظر انداز کرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مخالفت پر ری ایکٹ نہ کرو۔ یعنی مخالفت کا منفی اثر نہ لو۔ اور اگر تم نے ذرا بھی بحث ومباحثہ کیا تو ڈسکشن کا موضوع بدل جائے گا۔ اسی لیے اپنے موضوع پر قائم رہنے کے لیے ہمیں اعراض کرنا چاہیے، اسی وجہ سے بہت زیادہ اعراض کی تلقین کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اعراض کرتے تھے، آپ کے صحابہ اعراض کرتے تھے۔ اس کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اپنی انا (ego) کو کنٹرول کیا جائے۔ اس کے بعد دعوت کے باقی سارے آداب خود بخود پیدا ہو جائیں گے۔

قرآن کی سورہ النحل میں ارشاد ہوا ہے کہ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اچھے طریقے سے بحث کرو" (16:125)۔ بحث (جدال احسن) کا مطلب ہے ڈسکشن اور ڈائیلاگ۔ اچھے طریقے سے بحث کرو، یعنی اگر وہ غیر ضروری بحث کریں تب بھی تمہارا انداز نرم رہے۔ وہ ٹیڑھی بات کریں، تب بھی اس کا جواب سیدھے طریقے سے دیا جائے۔ ان کے سخت الفاظ سن کر بھی اپنی زبان سے نرم الفاظ نکالنا ہے۔ اگر دوسرا پرووک (provoke) کرنا چاہے تو بھی داعی کو پرووک نہیں ہونا ہے۔ یہ داعی کا کردار ہے کہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ہر

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page