داعیانہ کردار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۶
تکلیف پر صبر کرے۔ مدعو سے حساب چکانے کے بجائے ایسے تمام معاملات کو خدا کے خانے میں ڈال دے۔ جو انسان صحیح معنی میں اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے اس کے اندر یہ کردار پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کو یہ گہرا یقین ہوتا ہے کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور وہ خدا کے لیے یہ کام کر رہا ہے تو اس کو ہر حالت میں اس کام کو بحسن خوبی انجام دینا ہے۔
ہر پیغمبر نے یہی کہا کہ میں تمہارے لیے ناصح ہوں اور امین ہوں۔ ناصح کا لفظی مطلب ہے خیر خواہ، اور امین کا مطلب ہے امانت دار۔ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسرے کا ہمدرد ہو، وہ اس کا بھلا چاہنے والا ہو۔ منصوبہ تخلیق کے مطابق، وہ تمام انسانوں کو پرامن انداز میں ہدایت پہنچانے کا حریص ہو۔ یہ خیر خواہی اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مدعو کی منفی روش سے بے پروا ہو کر یک طرفہ طور پر اس کی ہدایت کا حریص بنا رہے۔ چنانچہ داعی اپنی تنہائیوں میں مدعو کے لیے دعا کرتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں کون سا انداز اختیار کروں کہ میری بات مدعو کے لیے زیادہ سے زیادہ قابل فہم ہو جائے۔ یہ ساری چیزیں اسی وجہ سے ہیں کہ اس کے اندر انسانی ہمدردی کا بہت گہرا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ چیز اس کو مدعو کی زیادتیوں کو نظر انداز کرنے والا بناتی ہے۔ اگر مدعو کڑوا بول بولے تب بھی داعی میٹھا بول بولتا ہے۔ اس بات کو آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے اپنا بچہ ہوتا ہے کتنا ہی غلط کام کرے تو اسے نرمی سے سمجھایا جاتا ہے، سختی نہیں کی جاتی ہے۔ کیونکہ ماں باپ کو بچوں سے جو گہرا تعلق ہوتا ہے وہ والدین کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بہت نرمی سے اپنے بچے کو سمجھائیں، تاکہ بات اس کے دل میں اتر جائے۔
یہی معاملہ داعی اور مدعو کا ہے۔ داعی کے دل میں مدعو کی شفقت اتنی بڑھی ہوئی ہونی چاہیے کہ وہ کسی بھی حال میں مدعو سے نفرت نہ کرے ۔ ہر حال میں وہ اس کی ہدایت کا حریص ہو، تنہائیوں میں وہ اس کے لیے دعا کرے۔ ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ دعا کرنے کے بعد جب دعوت دی گئی تو ان کے دل میں بات اتر گئی۔ مثلاً ابو ہریرہ کی ماں کا واقعہ جو صحیح مسلم (حدیث نمبر 2491) میں بیان کیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور صحابہ کی پوری زندگی میں طرح طرح کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک کتاب ہے حیاۃ الصحابہ، اس کے مصنف مولانا زکریا کاندھلوی صاحب ہیں۔ اس میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues