داعیانہ کردار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۷
صحابہ کے بہت سے واقعات ہیں، یعنی وہ کتنا زیادہ اس بات کے لیے بے چین رہتے تھے کہ لوگوں کو کیسے ہدایت کا پیغام پہنچایا جائے ۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور اس کے پہنچانے پر ان کو خدا کے یہاں کتنا زیادہ اجر ملے گا۔ ان کے سامنے خدا اور اس کی جنت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ بے چین رہتے تھے کہ اس پیغام کو لوگوں تک ہر حال میں پہنچانا ہے۔
سادگی، سنسیری ٹی (sincerity)، ماڈسٹی (modesty) اور انسانی خیر خواہی اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا۔ یہ نمونے ہیں جو ہمیں صحابہ کی زندگیوں میں ملتے ہیں۔ اس کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ داعی اپنی انا کو ختم کر دے، تواضع کے ساتھ رہے، اور سادگی (simplicity) کا طریقہ اپنائے ۔ صحابہ کرام نے اپنے زمانے میں دنیا کے بڑے حصے میں لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ ان کی سادگی اور تواضع کو دیکھ کر لوگ متاثر ہو جاتے تھے۔ ان صفات کو ہمیں اپنی زندگی میں اپنانا ہوگا۔ ایک اچھا داعی بننے کے لیے یہ صفات نہایت ضروری ہیں۔ آج لوگ اپنے اور غیر (we and they) کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ روش خیر خواہی کی قاتل نفسیات ہے، یہ دعوتی عمل کے لیے انتہائی نقصان دہ روش ہے۔ ابتدائے اسلام میں جب مسلمان انڈیا آئے، تو وہ سب سے پہلے کیرالا آئے۔ وہاں انھوں نے قومی شناخت کے نام پر اپنے آپ کو مقامی آبادی سے الگ نہیں کیا، بلکہ وہ مقامی لوگوں سے مل جل کر رہے، یہاں تک کہ انھوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں بھی کیں۔ اس وجہ سے وہاں پر ان کے لیے خدا کا پیغام پہنچانا بہت آسان ہو گیا۔ اگر وہ اپنا الگ کلچر چلاتے، اپنے اور غیر کی نفسیات میں جیتے ، جیسے آج کل مسلمان اپنا الگ کلچر چلاتے ہیں تو صحابہ قدیم دور میں دعوت کا کام نہیں کر پاتے۔ اپنے اور غیر کی نفسیات سے دوریاں بڑھتی ہیں۔ اس لیے ہمیں واپس جانا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور ان کے صحابہ کی زندگیوں کو جاننا ہے، وہاں سے اپنے لیے عملی نمونہ تلاش کرنا ہے۔ آج کے قومی رہنماؤں میں ایسی مثالیں نہیں ملیں گی۔ وہاں آپ کو حقیقی اسلام نہیں ملے گا۔ اس وجہ سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا چاہیے، صحابہ کی زندگیوں کو پڑھنا چاہیے۔ اس سے آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ داعیانہ کردار کیا ہوتا ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues