Al-Risala · July 2022 · page 49

داعیانہ کردار

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۴۹

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، طارق بدر صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کو ڈھیر ساری خوشیاں نصیب کرے۔ کیوں کہ آپ مولانا وحید الدین صاحب کے مشن کو عام کرنے میں سرگرم ہیں۔ اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اس مشن کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں۔ اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ہماری فلاح ہے۔ جس طرح مولانا صاحب کو پڑھتے ہوئے میرے ایمان کو تقویت ملتی ہے، کسی اور عالم دین کو پڑھنے سے اس طرح مجھے ایمانی تقویت نہیں مل پاتی ہے۔ میں مولانا صاحب کی فکر سے میں بہت زیادہ متاثر ہوں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں مولانا کی تعلیمات کو عام کروں۔ آج کے فتنہ وفساد والے دور میں میں مستقل طور پر اپنے آپ کو ان کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے لگانا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے مولانا کی بنیادی فکر رکھنے والی تصانیف بھیج دیں (سجاد حمزہ، بونیر، کے پی کے)۔

5- الرسالہ (اکتوبر۔ دسمبر 2021) مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک مضمون ہے ’’الحاد یا ڈی کنڈیشننگ‘‘۔ یہ ایک مبنی بر حقیقت اور حکمت سے بھر پور مضمون ہے۔ اس مضمون میں جو کچھ کہا گیا ہے اس روشنی میں اپنے کچھ دعوتی تجربات شیئر کر رہا ہوں۔ گزشتہ رمضان میں قرآن کی کافی تعداد میں ریکوسٹ موصول ہوئیں۔ ناگپور ٹیم نے کچھ قرآن بذریعہ پوسٹ بھیج دیے اور بہت سے قرآن میں نے ساجد احمد خان صاحب کے ساتھ مل کر ذاتی طور پر پہنچائے۔ قرآن کی ریکوسٹ زیادہ تر سیکولر تعلیم حاصل کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی تھیں ۔ اس میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ان نوجوانوں میں قرآن کو سمجھنے کی چاہ بہت زیادہ ہے۔ اس لیے انہوں نے قابل فہم زبان میں قرآن کا مطالبہ کیا۔ بعض لڑکیوں نے تو یہاں تک کہا کہ ہماری تعلیم انگریزی زبان میں ہوئی ہے۔ قرآن کے ترجمے زیادہ تر اردو زبان میں ہیں، اس لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے ہم نے اردو زبان سیکھی۔ اس تجربے سے مولانا صاحب کی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ’’ماڈرن ایجوکیشن کے ادارے اپنی حقیقت کے اعتبار سے قتل گاہ نہیں ہیں، بلکہ وہ تطہیر ذہن (ڈی کنڈیشننگ) کے ادارے ہیں۔ ذہنی تطہیر کے اس عمل کی بنا پر ایسے لوگ اس قابل ہو گئے ہیں کہ وہ کسی بات کو زیادہ کھلے ذہن کے ساتھ سمجھ سکیں‘‘۔ بعض نوجوانوں سے گفتگو کے دوران یہ اندازہ ہوا کہ آبائی طور پر ملا ہوامذہب شاید ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کر پا رہا ہے اور وہ اپنے مائنڈ کی ری انجینئرنگ کر کے اسلام کو ری ڈسکور کرنا چاہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ بقول مولانا صاحب ’ان کے گھر اور ان کے ماحول نے ان کے اندر اپنے آبائی مذہب کے لیے جو عقیدت پیدا کی تھی، اس کو جدید تعلیم نے ختم کر دیا، گویا کہ ان کی فطرت کے اوپر جو روایتی پردہ پڑ گیا تھا، وہ ہٹ گیا اور وہ اپنی اصلی فطرت کے قریب آگئے‘۔ چنانچہ ناگپور ٹیم نے یہ پلان بنایا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں تک سی پی ایس مشن کو پہنچایا جائے ۔ قرآن کے لیے ریکوسٹ کرنے والے ان نوجوانوں کا ایک واٹس اپ گروپ بنایا گیا ہے جس میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کے آڈیوز، ویڈیوز اور مضامین شیئر کیے جاتے ہیں، جس سے ان کو مزید فائدہ حاصل ہوتا ہے (محمد عرفان رشیدی، کامٹی، ناگپور)۔ 6- 1 نومبر 2021 سی پی ایس امریکا کے ایک ممبر نے ہارورڈ ڈیونٹی اسکول کیمبرج، بوسٹن کے سامنے تقسیم قرآن کا ایک اسٹال لگایا۔ کافی لوگ اسٹال پر آئے اور ترجمہ قرآن اور اسلام کے تعارف پر مبنی لٹریچر حاصل کیا۔ ایک

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page