Al-Risala · November 2022 · page 9

اہلِ کتاب سے استفادہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۹

مطالعہ حدیث شرح مشکوٰۃ المصابیح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ اس کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ نماز قائم کریں اور وہ زکات ادا کریں۔ پھر جب وہ ایسا کریں تو وہ اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیں گے، سوا اسلامی حق کے، ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 25، صحیح مسلم، حدیث نمبر 22)

اس حدیث میں وہی بات بتائی گئی ہے، جو سورہ التوبہ کی ابتدائی آیتوں میں بیان کی گئی ہے۔ اس حدیث میں لوگوں (الناس) سے مراد قدیم عرب کے وہ مشرکین ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر تھے۔ ان کے اوپر براہِ راست پیغمبر کے ذریعہ اتمام حجت کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ لوگ دشمنی پر اڑے ہوئے تھے۔ اس لیے قانونِ الٰہی کے مطابق، ان کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا— وہ یا تو اسلام قبول کریں یا قتال کے لیے تیار ہو جائیں۔ مگر ابتدائی مخالفت کے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا، اس لیے ان پر مذکورہ قانونِ الٰہی کے نفاذ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ پیغمبرِ اسلام کی معاصر قوم کے سوا دوسری قوموں کے لیے ایسا قانون نہیں۔ دوسری قوموں کے لیے صرف پر امن دعوت ہے اور بس۔ پیغمبر کے بعد اب کسی بھی قوم سے اس قسم کا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کو اپنا قبلہ بنائے۔ اور ہمارے ذبیحہ کو کھائے تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ تو تم اس کے ذمہ کو نہ توڑو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 391)۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page