Al-Risala · November 2022 · page 10

اہلِ کتاب سے استفادہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۰

اس حدیث میں ذمہ سے مراد وہ امن یا امان ہے جو ایک مسلم معاشرہ میں کسی کو دیا جاتا ہے۔ ایک شخص اگر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے اور اسلام کے ظاہری احکام پر عمل کرے تو اس کو مسلم معاشرہ کے ایک فرد کی حیثیت سے قبول کر لیا جائے گا۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ اس کی مخفی نیت کی بنیاد پر اس کے خلاف کوئی حکم لگائے اور نہ کسی کو یہ حق ہوگا کہ وہ کسی شخص کو بطور مسلمان قبول کرنے کے لیے مذکورہ شرطوں کے سوا کسی اور عملی شرط کا مطالبہ کرے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا۔ اس نے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اس پر عمل کروں تو میں جنت میں چلا جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تم فرض نماز کو قائم کرو اور فرض زکاة ادا کرو۔ اور تم رمضان کے روزے رکھو۔ اعرابی نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں ان پر نہ کسی چیز کو بڑھاؤں گا اور نہ کسی چیز کو گھٹاؤں گا۔ جب وہ واپس ہونے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی ایک جنتی انسان کو دیکھنے کی خوشی حاصل کرنا چاہے وہ اس اعرابی کو دیکھ لے۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 1397، صحیح مسلم، حدیث نمبر 14) اس حدیث میں جو اعمال بتائے گئے ہیں وہ اسلام کے بنیادی اعمال ہیں۔ یہ اعمال جس آدمی کے وجود میں حقیقی طور پر شامل ہو جائیں وہ اس کی پوری زندگی میں سما جائیں گے، وہ اس کی پوری شخصیت کو اللہ کے رنگ میں رنگ دیں گے۔

سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیے کہ پھر میں اس کے بارے میں کسی اور سے نہ پوچھوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر تم اس پر جم جاؤ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 38)۔ اللہ پر ایمان لانا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اس بات کا اقرار ہے کہ میں نے شعوری فیصلہ کے تحت اللہ کو اپنا رب و معبود بنا لیا۔ اس قسم کا شعوری فیصلہ پورے معنوں میں آدمی کے فکر و عمل کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page