اہلِ کتاب سے استفادہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۱
ایک کامل رہنما بن جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر آدمی سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔ ایسے تمام مواقع پر اپنے فیصلے کے اوپر پوری طرح قائم رہنا، اسی کا نام مذکورہ حدیث میں استقامت ہے۔ اور جنت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو ایمان کے بعد عملی استقامت کا ثبوت دیں۔ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجد کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ (وہ دور تھا) اس لیے ہم اس کی دھیمی آواز سن رہے تھے۔ مگر یہ نہیں سمجھتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آگیا۔ تو وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں دن میں اور رات میں۔ اس نے کہا کہ کیا میرے اوپر ان کے سوا بھی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، الا یہ کہ تم نفل نماز پڑھو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔ اس نے کہا کہ کیا میرے اوپر اس کے سوا بھی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں، الا یہ کہ تم نفل روزے رکھو۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکاة کے بارے میں کہا۔ اس نے کہا کہ کیا میرے اوپر اس کے سوا بھی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، الا یہ کہ تم نفل صدقہ کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ آدمی لوٹا اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم میں اس پر نہ زیادہ کروں گا اور نہ اس پر کمی کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آدمی کامیاب ہوگا، اگر اس نے سچ کہا۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 46، صحیح مسلم، حدیث نمبر 11) اسلام میں متعین کچھ عبادتی فرائض ہیں۔ آدمی اگر سچا عبادت گزار بن جائے تو وہ فرض کے سوا زائد عبادت بھی کرنے لگتا ہے جس کو شریعت میں نفل کہا گیا ہے۔ اسی طرح جب آدمی کی زندگی میں عبادت کی روح پوری طرح پیدا ہو جائے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اخلاق و معاملات میں بھی اس کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ خدا کی نسبت سے وہ عابد بن جاتا ہے، اور بندوں کی نسبت سے عادل۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues