اہلِ کتاب سے استفادہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۷
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفود جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کون لوگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ (ہم) ربیعہ (قبیلہ سے ہیں)۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اچھے آئے کہ نہ رسوا ہوئے اور نہ شرمندہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، ہم آپ کے پاس صرف حرام مہینے میں ہی آسکتے ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان (مخالف) قبیلہ مضر آباد ہے۔ پس آپ ہمیں کچھ بنیادی رہنمائی کردیں جس سے ہم ان لوگوں کو باخبر کردیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ اور اس کے ذریعہ ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ انہوں نے آپ سے مشروبات کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے ان کو چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ آپ نے ان کو ایک اللہ پر ایمان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان رکھنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو۔ اور آپ نے ان کو چار چیزوں سے منع فرمایا: ُٹھلیا (الحَنْتَم) سے اور تُوبَنی (الدُّبَّاء) سے اور نقیر سے اور تارکول والے پیالے (المُزَفَّت) سے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ان باتوں کو یاد رکھو اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں ان کو بتادو (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 53، صحیح مسلم، حدیث نمبر 17)
مدینہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تو آپ نے مختلف عرب قبائل کے پاس تبلیغی وفد بھیجنا شروع کیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ عرب قبائل مدینہ آکر آپ کی اطاعت قبول کرنے لگے۔ یہاں تک کہ عرب کے تمام قبائل مدینہ کی ریاست کی ماتحتی میں آگئے۔ اس حدیث میں ایک اصول یہ ملتا ہے کہ ایسے حالات میں جب کہ آدمی کے سامنے دو میں سے ایک کا انتخاب ہو ـــ وہ یا تو اپنی مرضی سے ماتحتی قبول کرلے ورنہ اُس کو رسوائی اور شرمندگی کے ساتھ ماتحتی کو قبول کرنا ہوگا۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ با عزت صلح کو اختیار کر لیا جائے اور بے نتیجہ جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues