Al-Risala · November 2022 · page 13

اہلِ کتاب سے استفادہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۳

نوٹ: حدیث میں قدیم عرب کے چار برتنوں کا ذکر ہے جو شراب بنانے اور پینے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ "حنتم" شراب کی ٹھلیا۔ "دُباء" اندر سے کھوکھلا کیا ہوا کدو جو جگ کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ "نقیر" درخت کی جڑ کو اندر سے کھوکھلا کر کے اس میں شراب رکھتے تھے۔ "مزفت" تارکول سے بنا ہوا شراب کا برتن۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام پر روک لگانے کے ساتھ اسباب حرام پر بھی روک لگادی۔

عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس وقت صحابہ کی ایک جماعت آپ کے پاس تھی۔ مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے۔ اور تم چوری نہ کرو گے اور تم زنا نہیں کرو گے اور تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور تم کسی پر جھوٹا بہتان نہ لگاؤ گے اور تم معروف میں نافرمانی نہ کرو گے۔ پھر تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ تم میں سے کوئی شخص ان میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کرلے اور وہ دنیا میں سزا پالے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ اور کوئی شخص ان میں سے کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے، پھر اللہ اس کی پردہ پوشی کرے تو اس کا معاملہ اللہ کے اوپر ہے، چاہے وہ اس کو معاف کرے یا وہ اس کو سزا دے۔ پھر ہم نے آپ سے اس پر بیعت کی۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 18، صحیح مسلم، حدیث نمبر 41)

اسلام میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے اپنے آپ کو دور رکھنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر کبھی کوئی شخص نفس سے مغلوب ہو کر وقتی طور پر گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اس کو فوراً توبہ کرنا چاہیے۔ ایسے آدمی کو کبھی دنیاہی میں کوئی تکلیف دے کر اس کے گناہ کو دھودیا جاتا ہے اور کبھی اس پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ اللہ کے اوپر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندے سے آخرت میں کس طرح کا معاملہ فرمائے۔ یہ وقتی طور پر گناہ میں مبتلا ہونے کا معاملہ ہے۔ گناہ میں مستقل طور پر مبتلا رہنا اور توبہ کے بغیر مر جانا قابل معافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page