اہلِ کتاب سے استفادہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۴
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انسان نے مجھے جھٹلایا حالاں کہ یہ اسے سزاوار نہ تھا۔ اور اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کے لیے سزاوار نہ تھا۔ پس اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ خدا مجھے دوبارہ نہ بنا سکے گا جس طرح اس نے مجھے پہلی بار بنایا۔ حالانکہ دوسری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ حالانکہ میں اکیلا اور بے نیاز ہوں جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4974)۔
جب کوئی شخص خدا کے وجود پر شبہ کرتا ہے یا وہ اس کی صفات کمال کا انکار کرتا ہے تو اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک جھوٹ ہوتا ہے۔ خدا کے تخلیقی مظاہر خدا کے وجود کا یقینی ثبوت ہیں۔ اسی طرح کائنات کی معنویت خدا کی صفات کمال پر گواہی دیتی ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی خدا کو نہ پائے، جو خدا کی تخلیق میں خدا کے جلووں کو نہ دیکھے وہ یا تو اندھا ہے یا وہ جان بوجھ کر سرکشی کر رہا ہے۔
ایک اور روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ (اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ) انسان کا مجھ کو گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ کوئی میرا بیٹا ہے۔ حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میں کسی کو اپنی بیوی یا اپنا بیٹا بناؤں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4482)۔
کسی انسان کے لیے یہ کہا جائے کہ اس کی ایک بیوی یا اس کا ایک بیٹا ہے تو یہ صرف ایک واقعہ کا اظہار ہوگا۔ لیکن اس قسم کی بات خداوند عالم کے لیے سخت ترین بہتان ہے۔ خدا اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی کوئی بیوی یا اس کا کوئی بیٹا ہو۔ انسان ایک نامکمل مخلوق ہے۔ اس کو اپنی تکمیل کے لیے بیوی اور بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے مگر خدا اپنی ذات میں آخری حد تک ایک مکمل وجود ہے۔ ایک کامل اور مکمل خدا ہی موجودہ عظیم کائنات کو پیدا کر سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues