Al-Risala · November 2022 · page 15

اہلِ کتاب سے استفادہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۵

ایسی حالت میں کسی کو خدا کا بیٹا بتانا خدا کے رتبہ کو گھٹانا (degradation) ہے۔ اور اس قسم کا قول بلا شبہ بد ترین قسم کا سب وشتم ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ انسان مجھ کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے۔ حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہاتھ میں ہے معاملہ، میں رات اور دن کو پلٹتا ہوں ( متفق علیہ : صحیح البخاری، حدیث نمبر 4826، صحیح مسلم، حدیث نمبر 2246)

انسان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کو زمانہ کا نتیجہ سمجھ کر زمانہ کو برا بھلا کہنے لگتا ہے۔ مگر اس قسم کے کلمات زمانہ پر نہیں بلکہ خدا پر پڑتے ہیں کیوں کہ زمانہ کوئی آزاد اور با اختیار چیز نہیں۔ وہ خدا کے حکم کے تابع ہے۔ یہ دراصل خدا ہے جو اپنے فیصلہ کو احوال زمانہ کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر موقع پر خدا کی طرف رجوع کرے نہ کہ زمانہ کو ذمہ دار سمجھ کر شکایت کرے۔

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : تکلیف دہ بات کو سن کر اس پر صبر کرنے والا خدا سے زیادہ اور کوئی نہیں۔ لوگ خدا کی طرف بیٹے کی نسبت کرتے ہیں۔ مگر وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں رزق دیتا رہتا ہے (متفق علیہ : صحیح البخاری، حدیث نمبر 2099، صحیح مسلم، حدیث نمبر 2804)

انسان اگر کسی تکلیف دہ بات پر صبر کرتا ہے تو یہ اس کی مجبوری ہے۔ کیوں کہ انسان کا اختیار بہت محدود ہے۔ محدود اختیار کی بنا پر اس کے لیے یہ موقع نہیں کہ وہ کسی سے بھر پور انتقام لے سکے۔ لیکن خدا کامل اور لا محدود اختیار کا مالک ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنی مرضی کے خلاف باتوں کو دیکھتا ہے اور اس پر صبر کرتا ہے۔ اس کا سبب خود خدا کا قائم کردہ قانونی امتحان ہے۔ خدا ہر ایک کو آزادی دے کر اس کا امتحان لے رہا ہے۔ جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہو، یہ آزادی بھی ختم ہونے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page