Al-Risala · November 2022 · page 16

اہلِ کتاب سے استفادہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۶

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ میرے اور آپ کے درمیان کجاوہ کے پچھلے حصہ کی سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق اپنے بندوں کے اوپر کیا ہے۔ اور بندوں کا حق اللہ کے اوپر کیا ہے۔

میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور بندوں کا حق اللہ کے اوپر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ پھر میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول کیا میں لوگوں کو اس کی خوش خبری نہ دے دوں۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو خوش خبری نہ دو ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2856، صحیح مسلم، حدیث نمبر (30)

نجات کا دارومدار ہر ایک کے لیے شرک کے انکار اور توحید کے اقرار پر ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف زبان سے کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ فکری انقلاب ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ آدمی اندر سے لے کر باہر تک اور قول سے لے کر عمل تک ایک ربانی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ یہ تبدیلی اتنی گہری ہوتی ہے کہ اگر اتفاقی سبب کے تحت وہ اپنے عقیدہ کے خلاف کوئی غلطی کر بیٹھے تو اس کی پوری شخصیت آخری حد تک تڑپ اٹھتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ غلطی اس کے لیے مزید اضافے کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس حدیث میں بھروسہ کرنے (فَيَتَّكِلُوا) کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ باتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھتے وہ اس کو صرف رسمی عقیدہ کے معنی میں لے لیں گے، اور کچھ الفاظ کو اپنی زبان سے دہرا کر یہ سمجھیں گے کہ انھوں نے آخرت میں اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنا لیا ہے۔ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page