اہلِ کتاب سے استفادہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۴
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کجا وہ پر تھے اور معاذ بن جبل ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ، انھوں نے کہا: میں حاضر ہوں خدمت میں۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ، انھوں نے کہا میں حاضر ہوں خدمت میں۔ آپ نے تین بار اس طرح فرمایا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو سچے دل سے گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ ضرور آگ کو اس پر حرام کر دے گا۔ انھوں نے کہا اے خدا کے رسول، کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں کہ وہ خوش ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر وہ بھروسہ کر لیں گے۔ پھر معاذ نے اپنی موت کے وقت اس کی خبر دی، گناہ سے بچنے کے لیے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 128 ، صحیح مسلم، حدیث نمبر 32 )۔
ایک سچائی جب کسی آدمی کے دل ودماغ میں آخری حد تک اتر جائے، وہ اس کے یقین و اعتماد کا لازمی حصہ بن جائے، اس وقت جو کلمۂ اعتراف آدمی کی زبان سے نکلتا ہے اسی کا نام گواہی (شہادت) ہے۔ جو آدمی اس طرح کمال درجہ میں خدا اور رسول کی معرفت حاصل کرلے اور پھر اس کا سچا اعتراف کرے تو یہ اعتراف اس کی پوری شخصیت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ ایسا اعتراف اللہ کی نظر میں اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ اس کے اوپر جہنم کی آگ حرام کردی جاتی ہے۔
جو انسان شعوری دریافت کے درجہ میں خدا کی خدائی کا اعتراف کرے، اس کا پورا وجود معرفت رب میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا مزکی شخصیت (purified soul) بن جاتا ہے جو جہنم کی دسترس سے باہر ہو چکا ہو۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس وقت آپ کے اوپر ایک سفید کپڑا تھا اور آپ سورہے تھے۔ پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ جاگ چکے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی بندہ جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر وہ اسی پر مر جائے تو وہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues