Al-Risala · November 2022 · page 18

اہلِ کتاب سے استفادہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۸

ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا، اگر چہ اس نے زنا کیا اگر چہ اس نے چوری کی۔ آپ نے فرمایا: اگر چہ اس نے زنا کیا، اگر چہ اس نے چوری کی۔ میں نے کہا، اگر چہ اس نے زنا کیا، اگر چہ اس نے چوری کی۔ آپ نے فرمایا: اگر چہ اس نے زنا کیا، اگر چہ اس نے چوری کی۔ میں نے کہا، اگر چہ اس نے زنا کیا، اگر چہ اس نے چوری کی۔ آپ نے فرمایا: اگر چہ اس نے زنا کیا، اگر چہ اس نے چوری کی، ابوذر کی ناپسندیدگی کے باوجود۔ اور ابوذر جب بھی اس حدیث کو بیان کرتے تو اس کے ساتھ یہ بھی کہتے کہ ابوذر کی ناپسندیدگی کے باوجود۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 5827، صحیح مسلم، حدیث نمبر 94)

کلمہ توحید کے اقرار سے مراد وہ اقرار ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کا نمائندہ بن کر ظاہر ہو، جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو۔ ایسے اقرار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا فکری اور روحانی وجود مکمل طور پر توحید کی حقیقت میں ڈھل گیا ہے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جو آخرت میں جنت کا مستحق قرار پائے گا۔ حدیث میں وإن زنی وإن سرق (اگر چہ اس نے زنا کیا، اگر چہ اس نے چوری کی) کا لفظ ہے، نہ کہ وإن یزنی وإن یسرق (اگر چہ وہ زنا کرتا رہے، اگر چہ وہ چوری کرتا رہے) کا لفظ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی ایمان لانے کے بعد بھی مستقل طور پر زنا اور سرقہ میں مبتلا رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتفاقی طور پر وقتی سبب سے کبھی اس قسم کا گناہ سرزد ہو جائے۔ اور پھر اس پر غلطی کا شدید احساس طاری ہو اور پھر وہ توبہ اور گریہ ندامت سے اپنے آپ کو پاک کرلے۔ اس حدیث میں خدا سے ڈرنے والے انسان کا ذکر ہے، اور جس انسان کے دل میں خدا کا ڈر سمايا ہو وہ اگر کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کرلے تو اس کے بعد اتنی شدت کے ساتھ اس کے اوپر گناہ کا احساس طاری ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ پاک انسان بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page