Al-Risala · November 2022 · page 33

30 جنوری 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۳

لال قلعہ بننے کے بعد ہی مغل سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔ اس کی وجہ افراد کی کمی تھی۔ مغل حکمرانوں کے پاس پتھر کافی مقدار میں تھے، جن سے وہ ایک عظیم قلعہ بنا سکیں، مگر ان کے پاس جاندار افراد نہ تھے جن سے وہ ایک عظیم سیاسی نظام بنا سکیں۔

اس کے بعد شاہی خاندان میں اقتدار کی لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ شاہی افراد ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔ صوبائی حاکموں میں مرکز سے بغاوت کا رجحان پیدا ہو گیا۔ اس صورت حال سے انگریزوں نے فائدہ اٹھایا۔ وہ دھیرے دھیرے پورے ملک پر قابض ہو گئے۔

لال قلعہ کو دیکھ کر یہ سب باتیں ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: قوم کے افراد میں اگر جان نہ ہو تو پتھروں کی دیواریں قوم کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتیں۔ جس قلعہ کو مغل حکمرانوں نے اپنے ابدی اقتدار کی علامت سمجھا تھا وہ ان کے اقتدار کا قبرستان بن کر رہ گیا طاقت کا اصل راز جاندار افراد ہیں اور یہی وہ متاع ہے جو دنیا میں ہمیشہ سب سے کم پائی گئی ہے۔ 31جنوری 1986 قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر غور کرو۔ اس سے واضح ہے کہ قرآن کا ایک حصہ سطور (lines) میں ہے اور اسی کا دوسرا حصہ بین السطور (between the lines) میں۔ اس بین السطور والے قرآن کو صرف غور کر کے پایا جا سکتا ہے۔ اگر قرآن کا ایک حصہ غیر ملفوظ طور پر اس کے بین السطور میں نہ ہوتا تو قرآن پر غور کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔

مجھ پر ایک تجربہ گزرا۔ یہ تجربہ ایک مثال ہے جو اس معاملے کو واضح کر رہا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے دو قسم کے پانی بنائے۔ ایک میٹھا اور دوسرا کھاری (فاطر، 35:12)۔ اسی طرح قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ زمین میں مختلف پھل پیدا ہوتے ہیں۔ سب کو ایک پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ مگر سب برابر نہیں۔ ایک کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہے (الرعد، 13:4)۔ ان آیتوں پر غور کرتے ہوئے اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں ان میں ایک ایسا مفہوم پا رہا ہوں جو لفظوں میں لکھا ہوا نہیں۔ یعنی اللہ کی ایک نئی صفت۔ میرے ذہن میں آیا کہ انسان کسی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page