30 جنوری 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۴
چیز کے مزے کو چکھ کر جانتا ہے۔ آدمی اگر چیز کو زبان سے نہ چکھے تو وہ اس کے مزے کو نہ جان سکے۔ خدا کھانے پینے سے ماورا ہے۔ خدا نے کبھی کسی چیز کو نہیں چکھا ۔ پھر اس کو چیزوں کا مزہ کیسے معلوم ہوا۔ یہ غور کرتے ہوئے اچانک مجھ پر خدا کی ایک نئی صفت منکشف ہوئی۔ یہ صفت کہ وہ چکھے بغیر چیزوں کے مزے کو جانتا ہے۔ خدا اس انوکھی طاقت کا مالک ہے کہ وہ چیزوں کو انسان کی طرح زبان سے نہ چکھے، اس کے باوجود وہ پوری طرح جانے کہ کس چیز کا مزہ کیا ہے اور کس چیز کا مزہ کیا۔ 1 فروری 1986 3 ستمبر 1984 کو مسٹر مسعود احمد بنارسی سے میری ایک گفتگو ہوئی تھی۔ گفتگو کا موضوع سکھوں کا آزاد صوبہ (پنجابی صوبہ) تھا۔ میں نے کہا کہ آزاد پنجابی صوبہ کبھی نہیں بنے گا۔ انہوں نے اس سے سخت اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین سال میں سکھوں کا آزاد پنجابی صوبہ ضرور بن جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میرا یہ اندازہ صحیح نہیں نکلا تو میں آپ کو ایک لاکھ روپے ادا کروں گا۔ انہوں نے اپنے قلم سے میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے :
Within three years Punjab will have an independent Khalistan. Bet Rs. one lakh. آج ہندوستان ٹائمس (1فروری 1986) میں، میں نے مسٹر خشونت سنگھ کا ایک مضمون پڑھا۔ اس مضمون کو پڑھ کر مجھے وہ واقعہ یاد آیا جو اوپر نقل کیا گیا ہے۔ مسٹر خشونت سنگھ کے مضمون کا عنوان ہے: بیوقوفوں کی ایک قوم (A Nation of Fools)۔ اس مضمون میں مسٹر خشونت سنگھ نے اس پوری سیاست کو احمقانہ سیاست بتایا ہے۔ انہوں نے پنجاب کی تازہ سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
I disapprove of their actions. This is no kar seva but kursee-seva. (Gurcharan Singh) Tohra (d. 2004) wants to stick to his kursee, they want it for themselves. انہوں نے پنجاب کی سیاست پر اردو کا حسب ذیل شعر چسپاں کیا ہے :
جنوں کا دور ہے کس کس کو جائیں سمجھانے ادھر بھی عقل کے دشمن، ادھر بھی دیوانے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues