4 فروری 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۵
آج کا نپور کے دو صاحبان ملنے کے لئے آئے۔ ایک ندوی عالم تھے اور دوسرے تاجر تھے۔ وہ دونوں تبلیغی جماعت کے چلہ میں گجرات جا رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اس وقت امت میں دو قسم کے کام چل رہے ہیں۔ ایک اصلاحی اور دوسرا مطالبا تی۔ پہلے کو داخلی اندازِ کار اور دوسرے کو خارجی اندازِ کار کہہ سکتے ہیں۔ قرآن وسنت سے جہاں تک میں سمجھا ہوں، صرف داخلی اندازِ کار ہی صحیح اندازِ کار ہے۔ خارجی اندازِ کار کی تصدیق قرآن نہیں کرتا۔
پھر میں نے کہا کہ داخلی اندازِ کار کا اصول اگر مسلمانوں کی کسی جماعت میں پایا جاتا ہے تو وہ صرف تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت، احتجاج اور مقابلہ اور تجاویز کا طریقہ اختیار نہیں کرتی جو موجودہ زمانہ میں دوسری مسلم جماعتیں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ تمام تر مسلمانوں کی داخلی اصلاح پر زور دیتی ہے۔ اور داخلی اصلاح ہی بلاشبہ اصل قرآنی کام ہے۔
میں نے کہا کہ مستقبل میں اگر کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے تو صرف داخلی اندازِ کار سے نکل سکتا ہے۔ خارجی اندازِ کار سے قطعا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ خواہ اس قسم کی تحریکیں ایک ہزار سال تک چلتی رہیں۔
4 فروری 1986
دو مسلم نوجوان مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ ایس آئی ایم آئی (SIMI) سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلم مسائل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ کون سے مسلم مسائل؟ انہوں نے کہا کہ مثلاً یہ کہ: "ہندوستان کی کورٹ ہمارے شرعی قانون کو چیلنج کرنا چاہتی ہے"
میں نے کہا کہ آپ کے اس جملے میں دو غلطیاں ہیں۔ آپ کورٹ کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ وہ شرعی قانون کو بدلنا چاہتی ہے۔ حالانکہ کورٹ کا یہ کام ہی نہیں۔ قانون کو بدلنا قانون ساز
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues