Al-Risala · November 2022 · page 36

4 فروری 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۶

اسمبلی کا کام ہے، نہ کہ کورٹ کا۔ کورٹ تو صرف اس لیے ہوتی ہے کہ وہ بنے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ دے۔ وہ قانون کو منطبق کرنے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ حقیقتاً قانون کو بنانے کے لیے۔ دوسری بات یہ کہ عدالت کا کوئی اقدامی رول نہیں ہوتا۔ یعنی وہ خود سے آکر آپ کے اوپر کوئی قانون نافذ نہیں کرتی۔ آپ جب اس کے یہاں جا کر کہتے ہیں کہ فلاں قانون کے مطابق میرے معاملے کا فیصلہ کرو تو وہ شہادتوں کو سننے کے بعد متعلقہ قانون کو آپ کے معاملے پر منطبق کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر شاہ بانو کے کیس میں مذکورہ مسلم خاتون نے عدالت سے کہا کہ میرے معاملے میں کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 125 کے مطابق فیصلہ دیا جائے تو اس نے فیصلہ دیا۔ اس کے برعکس، اگر مسلم خاتون یہ دعویٰ کرتی کہ میرے معاملے میں مسلم شرعی قانون کے مطابق فیصلہ دیا جائے تو کورٹ مسلم پرسنل لا کے مطابق فیصلہ دیتی۔ اس معاملے میں واضح طور پر مسئلہ کسی کورٹ کی طرف سے نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ خود مسلمانوں کی طرف سے پیدا ہوا ہے جو اپنے معاملات کا فیصلہ ملکی قانون کے تحت کرانا چاہتے ہیں۔

نظام الدین (نئی دہلی) میں ہمارے دفتر سے ملا ہوا ایک پارک ہے۔ اس پارک میں ایک لمبا سیمل کا درخت (silk-cotton tree) ہے۔ اس درخت کی شاخیں چاروں طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ اس میں روزانہ رات کو گدھ آ کر بیٹھتے تھے۔ لوگوں نے پٹاخہ چھوڑ کر ان کو بھگانے کی کوشش کی، مگر وہ نہیں بھاگے۔ آخر کار کارپوریشن نے اس کا حل یہ نکالا کہ درخت کی تمام شاخیں کاٹ دی گئیں۔

یہ واقعہ 1985ء کے آغاز میں ہوا۔ شاخیں کاٹنے کے بعد درخت کا منظر یہ تھا۔ تاڑ کی مانند ایک لمبا خالی تنا فضا میں کھڑا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ البتہ کاٹنے والوں نے یہ کیا کہ بالکل اوپر ایک آخری شاخ چھوڑ دی۔ یہ شاخ تقریباً دو میٹر لمبی تھی۔

اب اس درخت کے کٹنے پر ایک سال پورا ہو چکا ہے۔ آج اس بظاہر خشک تنے کا منظر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page