4 فروری 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۷
دوسرا ہے۔ قدیم شاخوں کے کٹنے کے بعد نیچے سے اوپر تک تنے کے چاروں طرف نئی شاخیں اور پتیاں نکلیں، یہاں تک کہ وہ ان سے ڈھک گیا۔ اب وہ خشک تنا نہیں بلکہ وہ ایک پورا درخت ہے جو سر سبز وشاداب حالت میں کھڑا ہوا ہے۔ تاہم اس شادابی میں ایک استثنا ہے اور وہ اسی شاخ کا ہے جس کو کاٹنے والے نے چھوڑ دیا تھا۔ یہ شاخ آج بھی ٹھیک ویسی ہی ہے جیسی ایک سال پہلے تھی۔ ایک پتلی سی لکڑی اور اس کے اوپر چند سوکھی پتیاں۔ درخت کی نئی شاخیں خوب سر سبز و شاداب نظر آتی ہیں، مگر یہ قدیم شاخ ایک مرجھائی ہوئی موٹی ٹہنی کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہ قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس دنیا میں جس کو کاٹا جائے وہی دوبارہ ظہور کرتا ہے۔ جس کی سرسبزی کو مٹایا جائے وہی زیادہ سرسبز و شاداب ہو کر زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں نہیں میں ہے کا امکان ہے۔ جہاں موت کے اندر زندگی کا راز چھپا ہوا ہے۔ 1986 فروری 6 ڈاکٹر شعیب احمد قاسمی (پرنسپل طیبہ کالج جے پور) ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ انہوں نے بتایا کہ جے پور میں ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کا ایک جلسہ ہوا اور اس کی صدارت کے لیے ہندوستان کے ایک مشہور ترین عالم کو بلایا گیا۔
اس جلسہ میں ادارہ کے ذمہ دار نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ہمارے پیش نظر یہ ہے کہ دوسرے کورسوں کے علاوہ ٹیکنیکل کورس بھی رکھیں اور اس کے ذریعے ٹیکنیشن (technicians) تیار کریں۔ مذکورہ عالم تقریر کے لیے کھڑے ہوئےتو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہاں ٹیکنیشن (technicians) کی نہیں بلکہ ایکسپرٹ (experts) کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر شعیب نے بتایا کہ مولانا کی یہ تقریر بہت پسند کی گئی۔
میں نے کہا کہ یہ محض ایک خطابت ہے۔ یہ کوئی گہری بات نہیں۔ حضرت عمر اور حضرت علی دونوں جلیل القدر صحابی تھے۔ مگر حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں معاملات درست تھے اور حضرت علی کی خلافت کے زمانے میں معاملات بگڑ گئے۔ کسی نے حضرت علی سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues