Al-Risala · November 2022 · page 38

7 فروری 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۸

حضرت علی نے جواب دیا: ”عمر کے ساتھی میرے جیسے لوگ تھے، میرے ساتھی تمہارے جیسے لوگ ہیں“ (تاریخ ابن خلدون، جلد 1، صفحہ 264)۔ بالفاظِ دیگر عمر کے زمانہ میں ”ایکسپرٹ“ کے ساتھ ”ٹیکنیشین“ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اب ”ایکسپرٹ“ ہیں مگر ”ٹیکنیشین“ موجود نہیں۔ ایک ایکسپرٹ کے تحت لاکھوں ٹیکنیشین درکار ہوتے ہیں تب ایک نظام چلتا ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی بربادی کا سب سے بڑا سبب مذکورہ بالا قسم کی پرجوش تقریریں ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان یونیورسٹی بناتے ہیں، مگر وہ ابتدائی سطح پر جدید تعلیم کا انتظام نہیں کرتے۔ وہ خلافت اور حکومت قائم کرنے کے لیے دوڑتے ہیں، مگر معاشرہ تیار نہیں کرتے۔ عالمی انقلاب کی باتیں ان کو بہت پسند آتی ہیں، مگر افراد کے اندر انقلاب لانے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا ہر آدمی ”گنبد“ کی اصطلاحوں میں سوچتا ہے، مگر ”بنیاد“ کی اصطلاحوں میں سوچنا انہیں کم تر درجہ کی بات معلوم ہوتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہوائی قلعے تو خوب بن رہے ہیں، مگر حقیقی قلعہ تعمیر کرنے میں وہ اب تک کامیاب نہ ہوسکے۔

7 فروری 1986

ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا ”عمامہ اور اتباع سنت“۔ مضمون نگار نے محدث ابو بکر بیہقی (وفات 1066ء) کی شعب الايمان کے حوالے سے عمامہ کی فضیلت میں ایک روایت نقل کی ہے۔ پھر اطاعتِ رسول اور اتباع سنت کی اہمیت ثابت کرتے ہوئے عمامہ باندھنے پر زور دیا ہے۔ عمامہ باندھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عملًا ثابت ہے۔ لیکن قولًا کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں جس سے عمامہ پہننے کی اہمیت ثابت ہوتی ہو۔ عمامہ کی فضیلت میں جو بھی روایتیں ذخیرہ حدیث میں موجود ہیں، وہ سب کی سب غیر ثابت شدہ ہیں، ایک بھی صحیح حدیث نہیں۔ سنن الترمذی کے شارح عبد الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں: لَمْ أَجِدْ فِي فَضْلِ الْعِمَامَةِ حَدِيثًا مَّرْفُوعًا صَحِيحًا وَكُلُّ مَا جَاءَ فِيهِ فَهِيَ إِمَّا ضَعِيفَةٌ أَوْ مَوْضُوعَةٌ (تحفة الأحوذی للمباركفوری، جلد 5، صفحہ 339)۔ یعنی، عمامہ کی فضیلت میں کوئی صحیح مرفوع حدیث مجھے نہیں ملی، اس تعلق سے جو حدیثیں بھی ہیں، وہ یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page