Al-Risala · November 2022 · page 39

8 فروری 1986ء

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۹

مثلاً ایک روایت یہ ہے: عَلَيْكُمْ بِالْعَمَائِمِ فَإِنَّهَا سِيمَاءُ الْمَلَائِكَةَ الْمَلَائِکَةِ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 13418)۔ یعنی تم پر پگڑیاں پہننا لازم ہے، کیوں کہ یہ فرشتوں کی پہچان ہے۔ اس حدیث کا ایک راوی مجہول ہے (الحاوی للفتاوی للسيوطی، جلد 1، صفحہ 359) اور علامہ ابن طاہر پٹنی (وفات 1578ء) نے اس حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے (تذکرة الموضوعات، صفحہ 155)۔ ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: الْعَمَائِمُ تِيجَانُ الْعَرَبِ (مسند الشهاب، حدیث نمبر (68)۔ یعنی، پگڑیاں عرب کا تاج ہیں۔ یہ روایت بھی باعتبارِ اسناد ضعیف ہے (المقاصد الحسنة للسخاوی، حدیث نمبر (717)۔ یہ بات بطور واقعہ صحیح ہے کہ قدیم عرب میں پگڑی پہننا شرافت اور عزت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اُس دور میں پگڑی آدمی کی سنجیدگی اور وقار کا نشان تھی۔ اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے بھی پگڑی کا استعمال کیا۔ مگر میرا خیال ہے کہ عمامہ باندھنا عادتِ عرب ہے، نہ کہ سنتِ رسول، یہ تاج العرب ہے، نہ کہ تاج الاسلام۔

8 فروری 1986ء

شری ڈی این آول 6 فروری کو ہمارے دفتر میں آئے۔ وہ اس وقت دہلی میں اپنے لڑکے کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں۔ بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ اردو بخوبی جانتے ہیں۔ چنانچہ میں نے ان کو اپنی نئی کتاب ’’اللہ اکبر‘‘ بطور تحفہ دی۔ تیسرے دن 8 فروری کو کتاب واپس آگئی۔ میں نے سمجھا کہ شاید بغیر پڑھے ہوئے انہوں نے واپس بھیج دی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ان کا ایک خط بھی تھا۔ اپنے اس خط میں انہوں نے کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات بتاتے ہوئے نہایت با معنیٰ خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا:

”آپ کی کتاب ’’اللہ اکبر‘‘ مجھے پرسوں عطا ہوئی تھی۔ میں اس کے مطالعہ میں اس قدر کھو گیا کہ آج صبح تک اس کو سارا پڑھ کر ہی دم لیا۔ یہ بھی قادر مطلق کی شان ہے، ورنہ 288 صفحات کی کتاب کو اتنی جلدی پڑھ لینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ “ یہ کتاب میں نے انہیں واپسی کی شرط پر نہیں دی تھی، تاہم انہوں نے کتاب کو بہت ہی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page