Al-Risala · November 2022 · page 40

8 فروری 1986ء

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴۰

حفاظت کے ساتھ ورق کے اوپر کاغذ لگا کر پڑھا اور ویسے کا ویسا ہی واپس کر دیا۔ پچھلے برسوں میں، میں نے بہت سے مسلمانوں کو ہدیہً یہ کتاب دی ہے۔ اور ان سے یہ کہا ہے کہ آپ اس کو پڑھنے کے بعد ایک خط میں اپنے تاثرات لکھ کر بھیج دیں۔ مگر جہاں تک یاد ہے غالباً کسی ایک مسلمان نے بھی اب تک ایسا خط نہیں بھیجا۔

اس طرح کے مختلف تجربات ہیں جن کی روشنی میں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمان بالکل بے جان قوم ہو چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہندو ایک زندہ قوم ہیں۔ کاش اسلام کے خلاف تعصب کی دیواریں ڈھ جائیں اور وہ موجودہ دور میں خدا کے دین کے علم بردار بن سکیں۔ 9 فروری 1986 آج تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ ملنے کے لیے آئے۔ وہ بکارواسٹیل (بہار) میں کام کرتے ہیں۔ ان میں ایک صاحب انجینئر تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہمارا مشن اور تبلیغ کا مشن اصلاً ایک ہے۔ فرق یہ ہے کہ تبلیغ عوام (masses) کے لحاظ سے کام کرتی ہے اور ہم ذہین طبقہ (intellectual class) کے لحاظ سے کام کر رہے ہیں۔

انجینئر صاحب نے کہا کہ تبلیغی جماعت دونوں طبقہ کے لیے کام کر رہی ہے۔ مثلاً آپ دیکھیے کہ ہماری جماعت جو بکارو سے آئی ہے اس میں میرے سمیت چار انجینئر ہیں۔ یہ ایک زبردست غلط فہمی ہے۔ لوگ ڈگری ہولڈرس اور انٹیلکچول کو ہم معنی سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ ایسی بات کہتے ہیں۔ حالاں کہ یہ دونوں ہم معنی الفاظ نہیں۔ انٹیلکچول سے مراد وہ شخص ہے جو غیر معمولی ذہین ہو اور مسائل پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچتا ہو۔ جب کہ ڈگری یافتہ ہر وہ شخص ہے جو کسی تعلیمی ادارہ سے ایک متعین کورس کو مکمل کرنے کے بعد ڈگری حاصل کرلے۔ انٹیلکچول پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ہوتے ہیں اور بے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی۔ یہ لوگ معاملات کو تفکری انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ فکر و فہم ان کی غذا ہوتی ہے۔ وہ کسی بات کو اسی وقت مانتے ہیں جبکہ اس کو ان کی فکری سطح پر قابل فہم بنا دیا گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page