Al-Risala · November 2022 · page 41

8 فروری 1986ء

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴۱

8-10 فروری 1986 کو غالب اکیڈمی (نئی دہلی) میں ایک سہ روزہ سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع اردو صحافت تھا اور اس کو اردو اکیڈمی نے منظم کیا تھا۔ راقم الحروف نے بھی اس میں ایک مقالہ پڑھا۔

ایک ہندو صحافی دہلی سے ’’مستانہ جوگی‘‘ نام کا اردو اخبار نکالتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میری پرورش لاہور میں ہوئی ۔ میں صرف اردو زبان جانتا ہوں ۔ مگر میرے بچوں کا حال یہ ہے کہ صرف ہندی اور انگریزی جانتے ہیں۔ وہ اردو بالکل نہیں پڑھ سکتے۔ یہی حال اب نئے ہندوستان میں بہت سے مسلم خاندانوں کا ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے اردو پرچوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے ساتھ ہندی پرچے نکال رکھے ہیں۔ مثلاً ’’شمع‘‘ اردو کا ماہنامہ ہے۔ مگر اسی کے ماتحت اس نے ’’شُشما‘‘ نام سے ہندی ماہنامہ نکال رکھا ہے۔ اسی طرح اور بہت سے پرچے اردو کے ساتھ ہندی ایڈیشنز جاری کیے ہوئے ہیں۔ تا کہ اگر اردو کی کشتی ڈوبے تو وہ ہندی کی کشتی پر سوار رہ سکیں۔ مگر یہی بات آپ کسی ہندی پرچے میں نہیں پائیں گے۔ یعنی کوئی ہندی پرچہ ایسا نہیں ہے جس نے ہندی کے ساتھ اردو کا پرچہ جاری کر رکھا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس ملک کا مستقبل ہندی کے ساتھ ہے۔

میرا خیال ہے کہ تاریخ کے بارے میں اس قسم کے اندازے اکثر صحیح نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر تقسیم کے بعد عام خیال یہ تھا کہ ملک میں اردو کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر چالیس سال بعد بھی اردو ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ آزادی کے وقت اور آج کی صورت حال کا موازنہ کیا جائے تو اردو کافی بڑھی ہے۔ دوسری بات ایک اور ہے جس کو اکثر لوگ بھول جاتے ہیں۔ ہندوستان میں لکھنے والی اردو ضرور کم ہوئی ہے، مگر بولی جانے والی اردو میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ ہندوستان کے ٹیلی وژن میں جو زبان استعمال ہوتی ہے، وہ واضح طور پر اردو ہوتی ہے، نہ کہ ہندی۔ حقیقت یہ ہے کہ زبانوں کا تسلسل ختم ہونا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اردو بلا شبہ کوئی استثنا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page