Al-Risala · January 2022 · page 31

پلٹ ڈاؤن مین

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۱

آکلے کی مذکورہ دریافت نے پلٹ ڈاؤن کو دوبارہ ایک معما بنا دیا کیوں کہ پانچ لاکھ سال پہلے کے ایک ڈھانچے کو گم شدہ کڑی فرض کیا جا سکتا تھا مگر ایک ایسا جاندار جو صرف پچاس ہزار سال پہلے موجود رہا ہو اس کا گم شدہ کڑی ہونا بالکل نا قابل قیاس تھا۔

اس کے بعد 1953ء کی ایک شام کولندن کی ایک دعوت میں آکلے کی ملاقات آکسفرڈ یونیورسٹی میں انسانیات کے ایک پروفیسر ڈاکٹر وینر (J. S. Weiner) سے ہوئی۔ ڈاکٹر وینر ڈاکٹر آکلے کی باتوں سے بہت متاثر ہوا۔ اس کے بعد گھر آ کر اس نے سوچنا شروع کیا کہ آخر اس کی حقیقت کیا ہے۔ سب سے زیادہ حیرانی اس کو پلٹ ڈاؤن مین کے دانت کے بارے میں تھی۔ ”ایک بندر نما جبڑے میں انسانی دانت جو اس طرح ہموار ہیں جیسے کسی نے ریتی سے ......“ یہ سوچتے ہوئے اچانک ایک نیا خیال اس کے ذہن میں آیا، ”ایسا تو نہیں ہے کہ کسی نے ریتی سے گھس کر ان دانتوں کو چکنا کر دیا ہو۔ ‘‘ اس کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب وہ اپنے سامنے تحقیق کا ایک نیا میدان پا رہا تھا۔

وینر نے اپنے ایک ساتھی سر ولفرڈ لی گر وز کلارک (Sir Wilfred Le Gros Clark) کی معیت میں چمپینزی (بندر کی ایک قسم) کا ایک داڑھ کا دانت لیا، اس کو ریتی سے گھس کر ہموار کیا اور اس کے بعد اسے رنگ کر دیکھا تو وہ پلٹ ڈاؤن کے دانت کے بالکل مشابہ تھا۔ اس کے بعد وہ دونوں برٹش میوزیم گئے تا کہ پلٹ ڈاؤن مین کے جبڑے حاصل کر کے اس کے متعلق اپنے قیاس کی تحقیق کریں۔ لوہے کا ایک مقفل بکس جو خاص طور پر فائر پروف بنایا گیا تھا، اس کے دروازے کھولے اور اس کے اندر سے پلٹ ڈاؤن کے ڈھانچے کے”مقدس‘‘ ٹکڑے نکالے گئے تا کہ سائنسی طریقوں کے مطابق ان کا گہراتجزیہ کیا جائے۔ اکسرے مشین اور دوسرے جدید قسم کے آلات حرکت میں آ گئے۔ ایک مخصوص قسم کا کیمیاوی طریقہ بھی استعمال کیا گیا جو نائٹروجن کی کمی کو معلوم کر کے یہ بتاتا ہے کہ اس پر کتنا وقت گزر چکا ہے۔

ویز کا قیاس صحیح تھا۔ ان مشاہدات سے معلوم ہوا کہ پلٹ ڈاؤن مین کے جبڑے کی ہڈی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page