ایگو کو مینج کرنا
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴۲
ایگو کو مینج کرنا
میں نے آپ سے یہ سیکھا ہے کہ ماڈسٹی سے انسان کا ایگو ختم ہو جاتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا ایگو کبھی ختم نہیں ہوتا ہے۔ اس کو کیسے ختم کیا جائے ۔ ( ڈاکٹر سفینہ تبسم ، سہارن پور، یوپی ) جواب انا (ego) شیطان کی جانب سے انسان کے خلاف جدوجہد کا حصہ ہے۔ اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس کو مینج کرنا ہے۔ ایگو بار بار آئے گا۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کی جانب سے آئے ہوئے ایگو کو پہچانے، اور اس سے بچاؤ کی کوشش کرے۔ یہ سلسلہ موت تک جاری رہے گا۔ انسان کو بیدار (vigilant) رہنا ہے تا کہ وہ شیطان کے حملوں کو پنچ کرنا سیکھے۔ انسان کے اندر انا (ego) کا جذبہ بہت زیادہ طاقت ور ہے۔ یہ جذبہ انسان کی ساری سرگرمیوں میں کام کرتا ہے۔ انسان کے لیے سب سے بڑی تباہ کن بات یہ ہے کہ وہ انا (ego) کا شکار ہو جائے۔ ایگو کے فتنے کا سب سے زیادہ مہلک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل کا ایک جواز (justification) تلاش کر لیتا ہے۔ وہ غلط کام بھی کرتا ہے تو اس کا ایک مبرر (justified reason) اس کے پاس ہوتا ہے۔ وہ غلط کام کو اس یقین کے ساتھ کرتا ہے کہ وہ ایک درست کام ہے۔ یہ ایک خود فریبی کی بدترین صورت ہے۔
انا کا ایک نقصان یہ ہے کہ آدمی ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا انسان حقیقت کے اعتبار سے وہ بے اصل خوش فہمیوں میں جیتا ہے، لیکن بطور خود یہ سمجھتا ہے کہ میں ایک ثابت شدہ حقیقت پر جی رہا ہوں۔ اس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ بنائے۔ ڈی کنڈیشننگ کی بنا پر آدمی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے، اس بنیاد پر وہ سچائی کو اس کی درست شکل میں دیکھتا ہے، اور اس کو قبول کر لیتا ہے۔ ہر آدمی کی یہ ایک اہم ذمے داری ہے کہ وہ اپنی ایگو کی کنڈیشننگ کو دریافت کرے، اور سیلف ہیمرنگ کے ذریعے اپنے ایگو کو پنچ کرنا سیکھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues