پلٹ ڈاؤن مین
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۲
کوئی پرانی ہڈی نہیں تھی بلکہ عام قسم کے ایک بندر سے حاصل کی گئی تھی۔ ہڈی کا قدرتی رنگ چونکہ فاسلز (fossils) ہونے کے بعد بدل جاتا ہے، اس لیے فریب دہندہ نے نہایت ہوشیاری سے اس کو مہوگنی رنگ میں رنگ دیا تھا۔ رنگ کو عین مطابق بنانے کے لیے چند مخصوص اجزاء استعمال کیے گئے تھے۔ گہرے مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ دانت کی سطح پر ایسے خراش موجود ہیں جو بلا اشتباہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ دانت مصنوعی طور پر رگڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کناروں میں غیر فطری قسم کی تیزی بھی تھی جو کہ صرف ریتی سے رگڑنے ہی کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ 1953ء میں مندرجہ بالا تینوں محققین (آکلے، ویز، کلارک) نے اعلان کیا کہ جبڑا اور دانت بالکل فرضی ہیں— اس کے بعد ویز نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اتنا بڑا فریب جو گھڑا گیا اس کا مصنف کون تھا۔ اس نے تمام ممکن تفصیلات جمع کرنا شروع کیں، ملک بھر کے سفر کیے تاکہ پلٹ ڈاؤن کے واقعہ سے متعلق جو افراد ہیں ان سے گفتگو کرے، جو لوگ مر چکے تھے وہ ان کے عزیزوں اور دوستوں سے ملا۔ اخبار کے قدیم فائلوں سے اس سلسلے کی تمام رپورٹیں پڑھ ڈالیں۔ اس گہرے مطالعے کے بعد پلٹ ڈاؤن کے واقعہ سے تمام افراد بالکل بری نظر آئے۔ مگر ایک شخص (چارلس ڈاسن) اس سے مستثنیٰ تھا۔ جو اس واقعہ کا ہیرو تھا۔ تمام معلومات اشارہ کر رہی تھیں کہ اس بے بنیاد بات کا اصل مصنف ڈاسن ہی ہے۔
چارلس ڈاسن ایک کامیاب قانون داں تھا۔ وہ انگلینڈ کے اس مخصوص خطے کا باشندہ تھا جہاں متحجرات (fossils) کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ڈاسن کو متحجرات سے بہت دل چسپی پیدا ہو گئی اس کا یہی مشغلہ بن گیا کہ وہ متحجر ہڈیاں جمع کیا کرتا تھا۔ پلٹ ڈاؤن مین کے واقعہ سے پہلے وہ دور قدیم کے متعدد جانوروں کے ڈھانچے حاصل کر کے لندن کے عجائب خانے میں بھیج چکا تھا۔ بعد کو ڈاسن کو وہ مذاق سوجھا جس نے 40 سال سے زیادہ مدت تک اہل علم کو فریب میں مبتلا رکھا۔ ڈاسن کے ایک ملاقاتی نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ آواز دیے بغیر ڈاسن کے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے دیکھا کہ ڈاسن کچھ تجربات میں مشغول ہے۔ وہ مختلف برتنوں میں کھاری اجزاء اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues