پلٹ ڈاؤن مین
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۳
رنگین عرق ڈال کر ہڈیوں کو اس میں ڈبوئے ہوئے تھا۔ ڈاسن نے اس کو دیکھ کر گھبرائے ہوئے انداز میں وضاحت کی کہ وہ متحجر ہڈیوں کو رنگ رہا تھا تا کہ یہ معلوم کرے کہ قدرتی طور پر ان کا جورنگ ہے وہ کیسے بنتا ہے۔ اس قسم کے اور واقعات معلوم ہوئے جنھوں نے اس خیال کی تصدیق کر دی کہ اس گھڑے ہوئے فریب کا مصنف ڈاسن ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب کہ اس سے بہت پہلے ڈاسن 1916 میں 52 برس کی عمر میں اپنی شہرت کے وقت مر چکا تھا۔
ڈاسن نے اپنے جھوٹ کو مکمل کرنے کے لیے ایک اور تدبیر کی۔ اس نے پتھر کے کچھ اوزار پیش کیے اور بتایا کہ یہ اسے پلٹ ڈاؤن کے مقام پر ملے ہیں۔ چنانچہ یہ تسلیم کر لیا گیا کہ یہ پتھر کے وہ اوزار ہیں جن سے پانچ لاکھ سال پہلے کا ناقص انسان کام لیا کرتا تھا۔ مگر بعد کی تحقیقات نے ان کو بھی بالکل جعلی ثابت کر دیا۔ ڈاسن نے اسی قسم کا ایک پتھر کا اوزار ہیری موریز (Harry Morris) کو دیا تھا۔ مور یز ایک بینک کلرک تھا اور پتھر کے پرانے نمونے جمع کرنے کا شائق تھا۔ بعد کو مور یز اپنی تحقیق سے اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ پتھر کا اوزار بالکل جعلی ہے۔ مور یز نے اس پتھر کو اپنی مخصوص الماری میں دوسرے نمونوں کے ساتھ رکھ چھوڑا تھا۔ جب وینز کو اس کی اطلاع ملی تو اس کا شوق بڑھا مگر اس سے بہت پہلے مور یز کا انتقال ہو چکا تھا۔
وہ پتھر کہاں ہے؟ وینز کو یہ سوال پریشان کرنے لگا۔ مور یز کے مرنے کے بعد اس کی الماری دو ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی۔ تاہم وینز نے اسے ڈھونڈ نکالا۔ الماری کھولنے پر معلوم ہوا کہ اس کے اندر بارہ خانے ہیں جن میں بہت سے نمونے لیبل لگے ہوئے رکھے ہیں۔ آخری خانے میں پلٹ ڈاؤن کا پتھر کا اوزار تھا اس پر مور یز کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ الفاظ درج تھے: “Stained by C. Dawson with intent to defraud”. یعنی اس کو ڈاسن نے بالکل جعلی طور پر خود اپنے ہاتھ سے رنگا تھا تا کہ دنیا کو دھوکا دے کہ یہ بہت پرانے زمانے کا اوزار ہے۔ ایک نوٹ میں مور یز نے یہ بھی بتایا تھا کہ ہائیڈروکلورک ایسڈ پتھر کے بھورے رنگ کو ختم کر کے اس کو معمولی سفید رنگ کے پتھر میں تبدیل کر دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues