تبصرہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۴
تبصرہ
یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ دور قدیم کی ہڈیوں کے ٹکڑے جمع کرکے ان کی بنیاد پر جو قیاسی ڈھانچے کھڑے کیے گئے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ بے شک دور قدیم میں کوئی ڈاسن موجود نہیں تھا جو ہم کو دھوکا دینے کے لیے ان ہڈیوں کا حلیہ بگاڑ دیتا۔ مگر لاکھوں اور کروڑوں برس تک آندھی، طوفان اور زلزلے زمین کے اوپر جو الٹ پلٹ کر رہے تھے ان کی وجہ سے ہڈیوں کے مقام اور ان کی ہیئت میں وہ ساری تبدیلیاں ہونا ممکن ہیں جن کا آج ہم نے ’’ڈاسن مین‘‘ کی صورت میں تجربہ کیا ہے۔ پھر ارتقا کے حامیوں کے پاس وہ کون سا علم یقین ہے جس کی بنیاد پر وہ نامعلوم ماضی کے بارے میں اتنی قطعیت کے ساتھ اپنا دعویٰ پیش کر رہے ہیں۔
اس موضوع پر اپنے مضمون کو ختم کرتے ہوئے ماہنامہ پاپولر سائنس (Popular Science) کا مضمون نگار آخر میں لکھتا ہے:
پلٹ ڈاؤن کی خیالی داستان اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ مگر ایک معمہ ابھی تک حل نہ ہوسکا۔ وہ کیا مقصد تھا جس کے لیے ڈاسن نے اتنا بڑا جھوٹ تیار کیا؟ اس کو اس کام سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ برٹش میوزیم کو اس نے جو ہڈیاں فراہم کی تھیں وہ اس نے محض تحفہ کے طور پر پیش کی تھیں۔ اس نے ان کی کوئی قیمت وصول نہیں کی۔ پھر کیا شہرت اس کا مقصد تھا۔ کیا اس زبردست فریب کے ذریعہ وہ محض ایک مذاق کرنا چاہتا تھا۔ اس انگریز جعل ساز کو آخر کس چیز نے اس کام پر آمادہ کیا۔ اس کا معلوم کرنا کیمیاوی اور طبعی تجربوں کی دسترس سے باہر ہے۔ اور شاید وہ ہمیشہ ایک راز ہی رہے گا۔ ‘‘ یہ فقرہ درحقیقت اس بات کا اعتراف ہے کہ تجربی علم (Tested Knowledge) اپنی محدودیتوں کی وجہ سے کائنات کی توجیہ نہیں کر سکتا۔ وہ ہماری دنیا کے صرف بعض واقعات کا تجزیہ کر سکتا ہے، جب کہ ہمیں ایک ایسے علم کی ضرورت ہے جو تمام واقعات کا تجزیہ کرے ۔ جو تمام حقیقتوں کو ہم پر آشکارا کر سکے۔ ایسا کامل علم صرف وحی کا علم ہے، اس کے سوا کوئی اور علم اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues