Al-Risala · January 2022 · page 35

تبصرہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۵

ارتقا کا مفروضہ قافلہ کائنات کی معلوم شاہراہوں میں اپنا راستہ نہ پا سکا ڈارون (1809-1882) کو یقین تھا کہ زندگی ایک ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ کیڑے مکوڑے اپنے اعضا میں ترقیاتی تبدیلیاں کرتے کرتے بکری بن گئے اور بکری نے ترقی کر کے زرافہ کی صورت اختیار کر لی۔ پچھلے سو برس کے دوران یہ ایک مسلمہ سائنسی عقیدہ بن گیا تھا۔ مگر حالیہ مطالعہ نے اس عقیدہ کو علمی حیثیت سے متزلزل کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر معلوم ہوا ہے کہ زمین کی عمر اس اندازہ سے بہت کم ہے جو ارتقائی طور پر زندگی کی انواع کو وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے۔ اب علمائے حیاتیات کا قیاس یہ ہو رہا ہے کہ زمین سے باہر کائنات کے کسی مقام پر انسان جیسی تہذیب موجود ہے اور اس نے بالقصد زندگی کا جراثیم (bacterium) اوپر سے زمین پر بھیجا ہے ۔ مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ درپیش ہے۔ کائناتی وقت اتنا کافی نہیں کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کر سکیں۔ ایک زمین پر۔ دوسری کسی اور سیارہ میں۔ گویا انسانی علم وہاں پہنچ گیا ہے جہاں اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ ایک قادر مطلق کے وجود کو تسلیم کرلے۔ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی، اس کے بارے میں حال ہی میں ایک چونکا دینے والا نظریہ سامنے آیا ہے۔ اس نظریہ کو پیش کرنے والے دو ممتاز مالے کیولر بیالوجسٹ ہیں۔ ایک، نوبل انعام یافتہ فرانس کریک (Francis Crick) دوسرے لزلی آرگل (Leslie Orgel)۔ اس نظریہ کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز نہ تو خود بخود ہوا اور نہ اس طرح کی کچھ ملین سال پہلے ایک ابتدائی مادہ سے ایک جسم حیوانی (organism) بنا اور اس سے تدریجی ارتقا کے ذریعے زندگی کی انواع وجود میں آئیں۔ بلکہ زندگی ایک ایسے تجربے کا نتیجہ تھی جو کچھ غیر ارضی ہستیوں (Extraterrestrial Beings) نے کروڑوں سال پہلے پلان کیا تھا۔

کریک اور آرگل یہ فرض کرتے ہیں کہ ہمارے کہکشانی نظام کے دوسرے سیاروں میں ترقی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page