تزئین یا ڈسٹریکشن
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۴۵
سطح پر بھی معرفت کی لامحدود ڈسکور ہوگی ہے۔ جیسے کائنات کی وسعت، انسانی جسم کی بناوٹ کا مطالعہ، کوانٹم فزکس، وغیرہ۔ یہ ڈسکوریز لامحدود سطح پر انسان کے لیے معرفت کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ اس سے نہ صرف مادی سطح پر انسان کو مدد ملی، بلکہ معنوی سطح پر بھی انسان کے لیے انٹلیکچول ڈیولپمنٹ کا سامان فراہم ہوا ہے۔
یہ سائنسی ڈسکوری مغربی اقوام کے ذریعے ظہور میں آئی۔ لیکن موجودہ دور کے تمام مسلم لیڈر سیاسی میدان میں مغلوبیت کی وجہ سے ان سے دشمنی کرنے لگے۔ حالاں کہ سیاسی میدان ایک محدود میدان تھا، جب کہ خدا کی معرفت اور دین کی تائید کا میدان ایک لامحدود میدان تھا۔ لیکن شیطان نے بذریعہ تزئین یہ کیا کہ مسلم لیڈروں کے سامنے سیاسی معاملے کو عظیم بنا کر پیش کیا، اور خدا کی معرفت اور دعوت کے میدان کو غیر حقیقی بنا کر پیش کیا۔ چنانچہ مسلم دنیا سترھویں صدی سے لے کر اب تک اسی تزئین میں پھنسی ہوئی ہے، اور اس سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ فاجر انسان کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا۔ ایک اور روایت میں اس کو ”غیر اہل دین“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالِ مَا ھُمْ مِنْ أَھْلِہ (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو غیر اہل دین ہوں گے۔ یہ بہت اہم پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں، جب کہ اسلام اجنبی بن جائے گا، اس وقت یہی بے دین اور غیر اہل دین، خدائی دین کے مددگار ثابت ہوں گے، خواہ بالواسطہ انداز میں ہو یا بلا واسطہ انداز میں۔ یہی لوگ ہوں گے جن کے ذریعے اسلام کا کلمہ روئے زمین کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں داخل ہوگا۔ غالباً اسی حقیقت کی طرف رسول اللہ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: قِوَامُ أُمَّتِي بِشِرارِها (مسند احمد، حدیث نمبر 21985)۔ یعنی میری امت کا معاملہ اس کے برے لوگوں کے ذریعے درست رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues