Al-Risala · January 2022 · page 46

تزئین یا ڈسٹریکشن

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۴۶

ان تمام آیات و احادیث کو آج کے ریفرنس میں دیکھا جائے تو موجودہ دور کے اعتبار سے ان کا مطلب ایک جملے میں یہ ہوگا کہ سیاسی مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو اویل کرو: ignore the political problems, avail the opportunities قدیم زمانے کی طرح موجودہ زمانے میں بھی مسائل ہیں۔ کوئی زمانہ مسائل سے خالی نہیں ہوتا ہے، خواہ وہ ماضی ہو یا حال یا مستقبل ۔ یہ قانون فطرت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی مسائل تھے۔ مگر آپ نے مسائل سے ٹکرا کر اسٹیٹس کو (status quo) کو بدلنے کے بجائے مسائل کے درمیان موجود مواقع کو دعوتی مشن کے لیے اویل کیا۔ کیوں کہ اسٹیٹس کو کو بدلنا گریٹر ایول (greater evil) ہے، اسٹیٹس کو کو اگنور کر کے اپنا مشن شروع کرنا لیسرايول (lesser evil) ہے۔ پیغمبر اسلام نے یہی کیا۔ مثلاً یہ کہ جب آپ نے دعوتی کام شروع کیا تو کعبہ میں بت تھے، مگر آپ نے ان کو نظر انداز کیا، اور بت کے لیے آنے والوں کو پر امن انداز میں توحید کا پیغام پہنچایا۔ چنانچہ یہی لوگ شرک کو چھوڑ کر ایک دن آپ کے ساتھی بن گئے۔ یہی تاریخ آج بھی دہرائی جاسکتی ہے۔

ـ فرد، سماج اس دنیا میں معیاری فرد کا بننا ممکن ہے، لیکن معیاری سماج کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ کوئی آدمی اپنے ذاتی فیصلے کے تحت، اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ ایک انسان کے بننے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کے اندر انفرادی قوتِ ارادی (will power) پیدا ہو جائے، لیکن پورے سماج کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ قوتِ ارادی ایک فرد کے اندر ہوتی ہے، پورے سماج کے اندر اجتماعی قوت ارادی (collective will) صرف ایک خیالی تصور ہے، عملی طور پر اس کا کوئی وجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بار بار ایسے افراد پیدا ہوئے جو اپنی ذات کے اعتبار سے معیاری کردار کے حامل تھے، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پورا سماج، یا پورا اجتماعی نظام اپنے کردار کے اعتبار سے، معیاری سماج یا معیاری نظام بن جائے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page