زمین میں فساد نہیں
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۳۰
زمین میں فساد نہیں
سورہ الاعراف میں انسان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ خدا کی زمین میں خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق رہے، وہ اس سے انحراف نہ کرے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (7:85) ۔ یعنی، پس ناپ اور تول پوری کرو۔ اور مت گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں۔ اور فساد نہ ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد۔ خدا نے اس زمین کو ایک اصلاح یافتہ زمین کے طور پر پیدا کیا ہے ۔ یہاں ہر چیز اپنی معیاری صورت میں ہے۔ مثال کے طور پر انسان کے سوا جو دنیا ہے وہاں عدل اور پوری ادائیگی کا اصول قائم ہے۔ یہ گویا ایک اصلاحی نظام ہے جو خدا کی زمین پر قانون فطرت کے تحت قائم کیا گیا ہے ۔ انسان کو بھی اپنی زندگی میں اسی اصلاحی اصول کو اختیار کرنا ہے۔ اس کے خلاف چلنا گویا زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ بناؤ میں بگاڑ کو داخل کرنا ہے۔
اس معاملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ زمین میں ہر چیز کو نہایت متناسب انداز (right proportion) میں رکھا گیا ہے۔ سورج کی روشنی ، بارش اور ہوا ہر چیز میں ایک خاص تناسب قائم ہے۔ زمین کی سطح پر سبزہ اور جنگلات سوچے سمجھے اندازہ کے مطابق اگائے گئے ہیں۔ انسان کے لیے بقا اور ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ فطرت کے اس اصلاحی نقشہ کو برقرار رکھے۔ زمین کے اندر فطرت کا جو نظام ہے وہ گویا ایک ماڈل ہے۔ انسان کو بھی اسی ماڈل پر اپنی زندگی کی تشکیل کرنی ہے۔ انسان اگر ایسا کرے کہ وہ فطرت کے اس ماڈل کو اپنی زندگی میں اختیار نہ کرے، اسی کے ساتھ وہ مزید یہ سرکشی کرے کہ وہ فطرت کے نظام کو بدل دے، مثلاً ہوا میں گیسوں کے فطری تناسب کو بگاڑ دے تو گویا وہ دوہرا جرم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ خدا کے غضب کا شکار ہو کر رہ جائیں گے ، وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔
اسلام پرہیزگاری کا نام ہے۔ اور روزہ اسی پرہیزگارانہ زندگی کا تربیتی کورس۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues