Al-Risala · March 2022 · page 31

اعراض کا طریقہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۳۱

اعراض کا طریقہ

سورہ الاعراف میں اہل ایمان کو چند اخلاقی نصیحتیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ باہمی معاملات میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (7:199) ۔ یعنی، درگزر کرو، نیکی کا حکم دو اور نادانوں سے اعراض کرو۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے درمیان بحث اور تکرار شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر درست طریقہ کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اگر فریق ثانی سنجیدہ ہو، وہ مسئلہ کو حقیقی طور پر سمجھنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں دلیل کے ذریعہ اس کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہیے۔ اور اگر وہ سنجیدہ نہ ہو تو ایسی حالت میں دلیل اور منطق اس کو متاثر نہ کر سکے گی۔ وہ ہر دلیل کے جواب میں کچھ خود ساختہ الفاظ بول دے گا اور پھر یہ سمجھے گا کہ اس نے پیش کردہ دلیل کو رد کر دیا ہے۔

اس دوسری صورت میں درست طریقہ یہ ہے کہ اعراض (avoidance) کے اصول پر عمل کیا جائے۔ اعراض کا مقصد دراصل یہ ہے کہ آدمی کو اس کے ضمیر کے حوالہ کر دیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ جو مقصد دلیل کے ذریعہ پورا نہیں ہوا وہ ضمیر کی خاموش آواز کے ذریعہ پورا ہو جائے۔ عملی نزاع کو ختم کرنے کے لیے بھی سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ اعراض ہے۔ عملی نزاع کے وقت اگر اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے تو نزاع اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے گی۔ جب کہ اعراض نہ کرنے کا نقصان یہ ہے کہ نزاع بڑھتی رہے، یہاں تک کہ چھوٹی برائی (lesser evil) کی جگہ بڑی برائی (greater evil) کا سامنا کرنا پڑے۔

اعراض کوئی سادہ چیز نہیں، وہ ایک اعلیٰ اخلاقی روش ہے۔ وہ ایک اعلیٰ انسانی طریقہ ہے۔ کوئی شخص جب اشتعال کی صورت پیش آنے پر بھڑک اٹھے تو وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک پست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اشتعال کی صورت پیش آنے پر نہ بھڑکے۔ وہ ایسا کر کے یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ ایک بلند انسانی مرتبہ پر ہے۔ وہ صحیح معنوں میں اعلیٰ انسان کہے جانے کا مستحق ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues

Printed page